Loading..


تعارف

آپ کا نام شیخ المشائخ پیر طریقت حکیم صوفی طارق احمد شاہ عارف عثمانی قادری سہروردی، چشتی قلندری ابوالعلائی نقشبندی مجددی مداری شطاری فردوسی نظامی صابری جہانگیری شاذلی ہے۔ آپ کی ولادت با سعادت بروزجمعرات، مورخہ 19 محرم الحرام 1340ہجری بمطابق 14 جولائی 1960ع میں لیاقت آباد نمبر 2 کراچی پاکستان میں ہوئی۔

شجرہ نسب

آپ کے والد فیض احمد بیگ، ان کے والد احمد بیگ اوران کے والد میاں روشن احمد بیگ تھے۔ آپ کے والد فیض احمد بیگ کا تعلق انڈیا کے شہر بلند محلہ ٹنٹان سے تھا ۔ فیض احمد بیگ حضرت تاج الدین ناگوری اولیاء کے مرید خاص میں سے تھے آپ کو روحانی فیض حضرت تاج الدین ناگوری سے تھا آپ نے روحانیت کی منزلیں حضرت بابا تاج الدین اولیاء ناگپوری سے مکمل کیں اور روحانیت میں ایک بڑامقام حاصل کیا ۔ آپ کبھی بھی اپنے آپ کو لوگوں میں ظاہر نہیں کرتے تھے، آپ نے اپنی ساری زندگی اطاعت الٰہی گزاری اور فقر کو محبوب رکھا۔ جب ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو آپ پاکستان کے شہر کراچی میں قیام پذیر ہوئے اور آپ زیادہ تر حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر جاتے اور وہاں کئی گھنٹوں مراقبے میں رہتے۔
فیض احمد بیگ کو روحانی فیض ایک اور بزرگ سے بھی تھا ان بزرگ کا نام حافظ نا بینا تھا ۔حافظ صاحب نے اپنی زیر نگرانی جناب فیض احمد صاحب کوسورۃ قریش کا چلّہ کروایا، حافظ نابینا اپنے وقت کے نامور عامل تھے ۔ان کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ گاؤں میں کسی کے اوپر جنات حاضر ہوتے تو اسکے کان میں صرف یہ کہتے کہ حافظ نابینا نے سلام کہا ہے وہ جنات وہاں سے بھاگ جاتے۔

روشن احمد بیگ کےدو بھائی تھے۔ ایک میاں دورھے احمد بیگ اور دوسرے بھائی میاں کڑے احمد بیگ ۔ روشن بیگ شہنشاہ امیر کے فوج کے سپہ سالار تھے۔ آپ جنگ میں شہید ہوئے اور آپ کا مزار مبارک فتح پور انڈیا میں آج بھی مرجع خلائق ہے۔ روشن احمد بیگ کےمنجھلے بھائی میاں دورھے احمد بیگ شہنشاہ اکبر کی خاص محفل کے لوگوں میں شامل تھے

روشن احمد کے بیگ کے سب سے چھوٹے بھائی میاں کڑے احمد بیگ تھے۔ آپ درویش صفت آدمی تھے آپ نے اپنی زندگی کے60 سال جنگل میں گزارے اور آپ بزرگی کی اس انتہا پر تھے کہ آپ اپنی وفات کے کئی سال بعد بھی اپنے گھر بنفس نفیس آتے تھے ۔ آپ اپنے خاندان کے بہت بڑے صوفی گزرے ہیں۔آپ پوری زندگی مجردرہے ہیں ۔ آپ نےاپنی ساری زندگی اللہ ورسول کے احکامات میں گزاری تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ مقام عطا فرمایا کہ جو شخص اپنی حاجت روائی کے لیے میاں کڑے احمد بیگ رحمۃ اللہ علیہ کی نیاز دلائے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔آپ کے خاندان میں آپ کی نیاز مٹھائی کےپیڑوں پر دی جاتی ہے۔آپ نے عمر کے ایک حصے میں آکر یہ بات کی کہ میرے خاندان میں جو مجھ سے مدد مانگے گا میں اس کی ہر بات کی مدد کروں گا آج بھی میاں حضور نے فرمایا ہمیں کوئی بھی مشکل پیش آتی ہے تو ہم اپنے بزرگ کڑے احمد بیگ کی نیاز پیڑوں پر دیتے اور وہ حل ہوجاتی ہے۔

آپ کی وِلاد ت باسعادت کی بشارت

میاں حضور کی ولادت سے قبل آپ کے دادا کے پاس ایک بزرگ آئے انھوں نے دادا سے کہا کہ آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا اُس کا نام طارق رکھنا ۔ جو بزرگ دادا کے پاس آئے ان کا نام مبارک عبد الصمد تھا ۔ اس وقت کے قطب الاقطاب تھے آپ خواجہ خواجگاں خواجہ معین الدین چشتی کے حکم سے دادا کے گھر گئے اور یہ پیغام پہنچایا ۔ بابا عبد الصمد فیض احمد بیگ کے بہت اچھے دوست تھے جب میاں حضور کی ولادت ہوئی تو آپ کے ماتھے پربڑا سرخ نشان تھا جس کی وجہ سے دادی اماں آپ کے ماتھے پر پٹی باندھ دیتی تھیں تاکہ کسی کی نظر نہ لگے ۔ جب آپ کی ولادت ہوئی تو بابا عبد الصمد نے اپنا لعاب دہن مبارک میاں حضور کے منہ میں ڈالا اور طارق نام رکھا اور دعا دی کہ اس سے ایک سلسلہ جاری ہوگا اور دنیا اسکے فیض سے مستفیض ہو گی اور بابا عبد الصمد نے وصیت کی کہ اس بچے کو جوگیوں سے دور رکھنا کیونکہ اس بچے کے ماتھے پر جو نشان ہے وہ بہت خاص ہے جوگی اس بچے کی تلاش میں رہتے ہیں اور یہاں وہ ضرور آئیں گے تو تم یہ جگہ چھوڑ دو یا کہیں اور منتقل ہوجاوَاس کے بعد بابا عبد الصمد چلے گئے اور پھر کبھی نہیں آئے۔

میاں حضورکی جوانی کا ایک واقعہ

میاں حضور جب جوان ہوئے تو خاموش طبیعت کے مالک تھے کوئی دوست نہیں تھا اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ کچھ اسطرح ہے کہ ہے کہ آپ اپنے کام پر گئے وہاں ایک شخص میاں حضور کے ساتھ کام کرتا تھا اس شخص کو کسی لڑکی سے محبت ہو گئی تھی وہ ایک عامل کے پاس گیا جو عملیات میں اپنے وقت کا بادشاہ تھا ،اس کا نام سیتارام تھا اس نے اس شخص سے کہا جو لڑکا تیرے ساتھ کام کرتا ہے جس کا نام طارق ہے تو اس کو میرے پاس لے آ تو میں تیرا کام کر دونگا ۔ وہ شخص بڑا حیران ہوا اور میاں حضور کو اپنے ساتھ بغیر کچھ بتائے لے گیا۔ جب میاں حضور اس عامل کے پاس گئے تو اس عامل نے کہا طارق تم آگئے بہت دیر سے کیوں آئے۔ میں تمہیں اپنے وقت کا بہت بڑا بزرگ اور عامل دیکھ رہا ہوں ،کچھ عرصہ میاں حضور نے ان کے پاس گذارا وہاں مختلف قسم کے چلے کئے بالخصوص عمل سنکیات پر مکمل عبور حاصل کیا ۔

جب بابا سیتا رام سے میاں کی آخری ملاقات ہو ئی تو بابا سیتا رام نے کہا طارق ہم نے جو کچھ اپنے گروں سے سیکھا وہ تجھ کو دیا اور میری عمر 90 سال ہوگئی ہے لیکن عملیات میں تیرے علاوہ کوئی اور کامل شخص میری نظر سے نہیں گزرا۔ اب میری بات ذرا غور سے سن !اب شاید میری تم سے ملاقات نہ ہو یہ کہتے ہوئے بابا سیتا رام نے اپنے ہاتھ سے ایک انگوٹھی اتاری اور میاں حضور کی انگلی میں پہنادی اور وصیت کی جب یہ انگوٹھی ٹوٹ جائے تو تم وہاں پر بیعت کر لینا وہی تمہاری اصل منزل ہو گی اسکے بعد سیتا رام چلے گئے پھر کبھی ملاقات نہیں ہوئی ۔ اس واقعہ میاں حضور کی عظمت اورروحانیت میں مقام و مرتبہ کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ غیر مسلم بھی آپ کی روحانیت کا اعتراف کرتے تھے اور انہوں نے جو چیزیں سالہا سال کی محنت کے بعد حاصل کیں میاں حضور کو خود بلواکر ویسے ہی دے دیں۔

`میاں حضور نے ۴۱ سال کی عمر سے یعنی 1974 سے 1978 تک اس قدر مشکل اور محنت طلب عملیات سیکھے جن کو میاں حضور کی کی زبان مبارک سے سن کرآنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں اور بزرگان دین کی مجاہدات وریاضت کی ایک یاد تازہ ہوجاتی ہے جس سے دل میں ذکروفکر کا جذبہ بیدار ہوجاتا ہے۔

میاں حضور کا راہ سلوک طے کرنے کے لیے بزرگوں کے پاس جانا

میاں حضور جس بزرگ کے پاس جاتے تو ان کے معاملات سلب ہو جاتے تو وہ بزرگ میاں سے عرض کرتے تمہاری منزل کوئی اور ہے تقریباً ایک سال تک میاں حضور اپنی منزل کی تلاش میں رہے۔

میاں حضور کی دادا میاں خواجہ منظور حسین سے ملاقات

کافی کوششوں کے بعد ایک دن میاں حضور کو اپنی منزل مل گئی ۔ یہ واقعہ 1979 میں پیش آیا۔ میاں حضور اس وقت کورنگی میں رہتے تھے کسی نے میاں حضور سے عرض کی کہ انڈیا کے شہر میوات سے ایک بزرگ آئے ہیں جن کا تعلق مداریہ شطاریہ خاندان سے ہے وہ بہت نیک اور کم گو ہیں چلو ان کی زیارت کرتے ہیں میاں حضور نے ان کو منع کیا اور گھر جا کر سو گئے خواب میں دیکھتے ہیں کہ ایک بزرگ میاں حضور کو اپنے پاس بُلا رہے ہیں میاں حضورنے فوراً اس شخص کو تلاش کیا اسکے بعد دادا میاں حضرت خواجہ منظور حسین شاہ رحمۃ اللہ کے پاس گئے تو جب ان کے پاس پہنچے اور اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا تو انگلی میں انگوٹھی نظر نہیں آیٔی ۔ میاں حضور وہاں پہنچ کر بہت پریشان ہوئے اور انگوٹھی ڈھونڈنے لگے ۔ تو دادا میاں حضرت خواجہ منظور حسین شاہ نے فرمایا آپ کا کچھ گُم ہو گیا ہے کیا؟ تو میاں حضور نے کہا جی ہاں میری انگوٹھی گُم ہو گئی ہے تو دادا میاں نے فرمایا تمہاری انگوٹھی میرے پاس ہے اور دو حصوں میں ٹوٹ گئی ہے میاں حضور نے جب انکے ہاتھ کی طرف دیکھا تو واقعی انگوٹھی ان کے ہاتھ میں موجود تھی اور ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو چکی تھی آپ نے وہیں سر جھکا لیا اور کہا یہی میری منزل ہے۔

میاں حضور کا خواجہ منظور حسین سے طلب بیعت کرنا

میاں حضورنے سید منظور حسین شاہ صاحب سے عرض کی مجھے اپنا مرید کر لیں تو دادا میاں نے فرمایا ہم ایسے مرید نہیں کرتے پہلے جاوَ چالیس (40) دن تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھو اسکے بعد میرے پاس آنا۔ میاں حضور وہاں سے روانہ ہوئے تاکہ حکم کی تعمیل کرکے پھر بیعت کے لیے واپس آئیں۔

خواجہ منظور حسین کا میاں حضورسے بیعت سے قبل چلے کروانا

سورہ مزمل کا چلہ

جب 40 دن بعد آئے تو کہا: میاں اب بیعت کر لیں تو(سید منظور حسین شاہ صاحب نے) کہا اتنی جلدی کیا ہے ہم تمھارے لئے ہی یہاں آئے ہیں ۔ پہلے سورۃ مزمل 360 بار روزانہ 40 دن تک پڑھو اس کے بعد آنا پھر میاں حضور 40 دن بعد آئے

سورہ اخلاص کا چلہ

پھر داد میاں نے فرمایا جاوَ سورۃ اخلاص 14000با ر روزانہ 40دن تک پڑھو اسکے بعد آنا ۔ جب آپ (شاہ عارف طارق احمد قادری ) نے آپ کے فرمان پر لبیک کہتے ہوے مذکورہ تمام وظایٔف کر لیے تو دادا میاں خواجہ منظور حسین شاہ نے میاں حضور کو 1979 میں مرید کیا اور خلافت و اجازت عطا کی اور سلوک کی منزلیں طے کروائیں ۔

بیعت کے بعد اجازت وخلافت

خواجہ منظور حسین علیہ الرحمہ نے میاں حضور کو مداریہ خاندان کی خلافت و اجازت عطا کی اور مداریہ خاندان کے تمام ذکر و اذکار اور اشغال عطا کیے اور مداریہ خاندان کی خاص منازل کی تعلیم فرمائی ۔ میاں حضور نے دادا میاں خواجہ منظور حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس صرف کچھ خاص وقت گزارا ۔ جب دادا میاں حضور خواجہ منظور حسین شاہ کا بھارت جانا ہوا تو آپ میاں حضور کو حضرت عرفان علی شاہ کے حوالے کر کے گئے اور کہا میاں عرفان اس کا ایسے خیال رکھنا ہے جیسے ہم نے تمہارا رکھا۔ خواجہ عرفان علی شاہ خواجہ منظور علی شاہ صاحب کے مرید خاص خلیفہ اور بچپن کے دوست بھی تھے۔ جب داد میاں نے میاں حضور کو عرفان علی شاہ صاحب کے حوالے کیا تو باقی تعلیم و تربیت پیر عرفان علی شاہ نے کی اور عرفان علی شاہ نے بھی میاں حضور کو اپنے خاندان کی خلافت و اجازت دی اور مداریہ خاندان کے ذکر و اذکار تعلیم کئے اور شجرے کا علم عطا کیا

عرفان علی شاہ صاحب کا خاندانی شجرہ

عرفان علی شاہ کے والد میر مظفر حسین شاہ اور ان کے والد حضرت شاہ لطف اللہ اور انکے والد شاہ فضل گنج مراد آبادی تھے ۔

عرفان علی شاہ صاحب کے اوردو وظائف

عرفان علی شاہ صاحب 14سال تک میاں میر کے روضہ مبارک پرریاضت کی آپ سورۃ اخلاص کے بہت بڑے عامل اور بزرگ تھے آپ کا معمول تھا کہ آپ 14ہزار بار سورۃ اخلاص پڑھتے آپ کا یہ معمول تقریباً40 سال رہا ۔ میاں حضور کو سورہ اخلاص کی اجازت پیر عرفان علی شاہ نے دی ۔ پیر عرفان علی شاہ صاحب میاں حضور سے بہت محبت کرتے تھے اور آپ میاں حضور پر بہت شفقت فرماتے تھے آپ نےمیاںحضورکی تربیت مکمل کی۔

میاں حضور وہ بزرگ ہستی ہیں جن کی تربیت اور بیعت طلب پہلے ہوئی پھر بیعت ارادت ہوئی۔ ایسے بہت کم بزرگ گزرے ہیں جن کی بیعت طلب پہلے ہوئی ہواور بیعت ارادت بعد میں ہوئی ہو ۔

عرفان علی شاہ صاحب کے انتقال کے بعد حضرت عثمان علی شاہ سے ملاقات -:

پیر عرفان علی شاہ ک جب انتقال ہو گیا تو میاں حضور بے قرار ہوگئے کہ تاکہ کسی مردِ قلندر کے پاس پہنچ کر مزید صحبت حاصل کروں ۔

کچھ عرصہ بعد1981 ع میں میاں حضورکی حضرت عثمان علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ جو خاندان قادریہ سہروردیہ چشتیہ قلندریہ کے بزرگ تھے ان سے ملاقات ہوئی ۔ ملاقات کا واقعہ کچھ یوں پیش آیا، ایک دن میاں حضور(شیخ طارق احمد قادری ) پنے حجرے میں ذکر میں مشغول تھے آپ کے سسر نے دروازے پر دستک دی اور کہا میاں کب تک حجرے میں بند رہوگے چلو تمہاری ملاقات ایک بزرگ سے کرواتا ہوں۔ اس پر میاں حضور نے فرمایا ۔ اب مجھے کسی سے نہیں ملنا یہ کہہ کر میاں دوبارہ اپنے حجرے میں تشریف لے گئے ۔ اس رات آپ نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ اُن کو کچھ عطا کر رہے ہیں اور اپنے سسر کو بھی دیکھا ۔ اس کے دوسرے دن میاں حضور نے اپنے سسر سے کہا تم کسی بزرگ کی بات کر رہے تھے تو سسر نے کہا اب رہنے دو میں نہیں جا رہا ۔

میاں حضور کی دادا میاں عثمان علی شاہ سے بیعت:-

میاں حضور نے کہا چلو میں بھی ان کی زیارت کرنا چاہتا ہوں تو سسر نے کہا کل تو تم نے منع کر دیا تھا آج تم کو کیا ہو گیاسب خیریت ہے ! میاں حضور نے فرمایا سب خیریت ہے بس تم چلو سسر راضی ہو گئے ۔ اور میاں حضور کو ان بزرگ کے پاس لے گئے ۔ جب میاں حضور وہاں پہنچے تو حیران رہ گئے یہ تو وہی جگہ ہے جو میں نے خواب میں کل رات دیکھی تھی ، شوقِ زیارت اور بڑھنے لگا ، انتظار کے لمحے صدیوں کی طرح گذرنے لگے ۔ دوپہر کا وقت تھا میاں حضور ان بزرگ کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں اپنے دروازے پر ایک بزرگ بیٹھے ہیں جیسے کسی کے آنے کا انتظار کر رہے ہوں ۔ ان بزرگ نے میاں حضور کو دیکھتے ہی کہا میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا یہ بتاوَ میاں طارق با وضو ہو ۔آپ نے کہا جی ہاں میں ہمیشہ وضو سے رہتا ہوں ۔اس پر دادا میاں مسکرائے اور فرمایا کہ میں وہی ہوں جس کو کل رات تم نے خواب میں دیکھا ہے۔ اب تمہارا حصہ یہاں ہے ۔

میاں حضور کوحضرت خواجہ عثمان علی شاہ سے اجازت و خلافت -:

وہاں دادا میاں عثمان علی شاہ نے میاں حضور کو بیعت کرکے فرمایا کہ ہم نے تم سے بیعت ارادت لی ہے جو تمہاری پہلے بیعت تھی وہ بیعت طلب تھی۔ہمارا سلسلہ قادری ،سہروردی،چشتی قلندری ہے لیکن ہمیں نسبت ابوالعلائی ملی ہے۔اس وقت آپ اب چلے جائیں ہمارے یہاں چاند کی 17 کو محفل ہوتی ہے اس میں ضرور آنا۔ اس طرح میاں حضور دادا میاں سے بیعت کرکے چلے گئے۔

بیعت کے بعد میاں حضور اپنے مرشد کریم کے حکم پر چاند کی 17 تاریخ کو گئے جس وقت دادا میاں کے ہاں چاند کی 17 کی محفل جاری وساری تھی۔اس وقت میاں حضور کے مالی حالات کچھ بہتر نہ تھے لیکن مرشد کریم کے حکم پر لبیک کہتے ہو نیو کراچی سے ملیر تک سفر پیدل طے کرکے محفل میں شریک ہوئے۔یہاں میں میاں حضور کے مریدین کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مرید ہو تو ایسا کہ اپنے مرشد ومربی کے حکم کے سامنے اپنی مرضی ختم کرکے ،محنت ومشقت براداشت کرکے ان کی توجہ حاصل کرے۔کہاں وہ میاں حضور کا دور تھا جس میں آمد ورفت کے ذرائع اتنے زیادہ نہ تھے اور کہاں آج ہمارا جدید دور ہے جس میں ایک سے ایک سہولت موجود ہے۔گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے ہوتا ہے ان تمام تر سہولتوں کے باوجود میں بھی اگر ہم مرکزی خانقاہ طارق جہانگیری انٹر نیشنل کراچی پاکستان ہفتہ وار یا ماہانہ محفل میں شریک ہو کر میاں حضور کی صحبت سے فیض یاب نہیں ہوسکتے تو یہ ہماری قسمت کی محرومی کہلائے گی۔شہر کراچی میں رہنے والے مریدین سے یہی عر ض ہے باقی دیگر مقامات پر بھی موجود مریدین کے لیےاکثراوقات فیس بک پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔بلکہ میاں حضور کی نظر عنایت سے اب دنیا بھر کے لوگوںتک بھی میاں حضور کا فیض عام کرنے کے لیے مرکزی خانقاہ کی طرف ایک ویب سائٹ کا قیام عمل میں لایا جارہے جس میں آپ کے بیانات اور تحریری مواد آسانی سے مل سکے گا۔بس رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں میاں حضور کا مرید صادق بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

اس مختصر سی دعوت فکر کے بعد دوبارہ ہم اس بات کی طرف آتے ہیں کہ میاں حضور جب اپنے مرشد کریم کی17 کی محفل میں شریک ہوئے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بزرگوں سے لی ہوئی تمام تمام اجازات وخلافت سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ اب جاؤ اور جو پہلے کام تم کرتے تھے وہی کرو اس وقت میاں حضور ذکر حیرت میں مشغول تھے وہ ذکر میاں حضور نے مکمل کرکے فرمایا حضرت میرے لیے آگے کیا حکم ہے؟ اس پر دادا میاں نے ایک پیر بھائی جن کا سلیمان تھا ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان کو عملیات کا بہت شوق ہے ان کو کوئی عمل کراؤ۔

میاں حضور کو اجازت و خلافت ملنے کے ساتھ ہی ہم عصر پیر بھائیوں کی تربیت کے معمور کرنا

گویا کہ دادا میاں نے اجازت وخلافت دینے کے ساتھ ہی آپ کو تربیت کے دیگر مریدین کی تربیت کے لیے منتخب کیا تھا۔میاں حضور نے اپنے مرشد کریم کی اجازت سے اپنے پیر بھائی سلیمان کو سورہ اخلاص کا عمل صرف 21 دن میں کرواکر میاں حضور کے سامنے پیش کیا تو دادا میاں نے فرمایا کہ ہم نے عمل کروانے کا کہا تھا اور تم نے تو صرف 3 ہفتوں میں عمل کی تکمیل بھی کروادی۔

ایک اہم نصیحت

دادا میاں نے سلیمان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ کہ اس عمل کا کبھی غلط استعمال نہ کرنا،اپنے سلسلے کے لیے استعمال کرنا۔دادا میاں کی یہ نصیحت صرف ان کے لیے نہیں تھی بلکہ اس نصیحت کو ہم بھی حرزجاں بنالیں کہ جیسا کہ اکثراوقات میاں حضور اس نصیحت کو دہراتے بھی رہتے ہیں ،ہمارا ذکرو ااذکار،ہمارے چلےّ،ہماری عبادت وریاضت ،دینی ،سماجی فلاحی کام اپنے مفاد کے لیے نہیں بلکہ رضائے الہی،خدمت خلق اور سلسلے کی ترویج واشاعت کے لیے ہونے چاہییں۔اگر ہم اس نصحت پر عمل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو دونوں جہانوں کی کامیابی ہمارا مقدر بنے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔؛آمین

ماہانہ چاند کی 17 کی محفل کی خصوصی نسبت سرکار غوث پاک سے

دادا میاں کو میاں حضور سے ایک خاص محبت تھی اس کی و جہ تھی کہ دادا میاں فرمایا کرتے تھے کہ طارق پر سب سے زیادہ نظر اور توجہ سرکار غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی کی رہتی ہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ دادا میاں نے پوچھا کہ طارق تم کس کی نیاز کرتے ہو؟اس پر میاں حضور نے عرض کی کہ میں حضرت شاہ مدار رحمۃ اللہ علیہ کی 17 تاریخ کرتا ہوں ،اس پر دادا میاں نے ارشاد فرمایا آج سے تم غوث پاک کی 17 تاریخ کرنا میں تم اس کی اجازت دیتا ہوں یہ 1982 ع کی بات ہے۔میاں حضور فرماتے ہیں اس وقت سے لیکر آج تک میں مسلسل 17 تاریخ سرکار غوث پاک کی کرتا ہوں

میاں حضور کا چہل کاف کا عمل

جب میاں حضور 17 تاریخ عطا ہوئی تو داد ا میاں نے فرمایا کہ اب تم چہل کاف کا عمل شروع کرو اسی وقت میاں حضور نے چہل کاف کا عمل شروع کیا۔اس عمل کے دوران میاں حضور کو بے شمار مشاہدات ہوئے جن کا ذکر بعد میں کبھی کیا جائے گا۔

کورنگی میں میاں حضور کے (الانعم یونانی) دواخانے کا آغاز

میاں حضور کی دادا میاں سے ظاہر ملاقات بہت کم رہی ہے ،جب دادا میاں حکم فرماتے میاں حضور چلے جاتے اس طرح بس کچھ وقت کے لیے سلسلے کے ذکرواذکار کی باتیں ہوتیں۔اس کے کچھ عرصہ بعد دادا میاں نے میاں حضور کو فرمایا اب صرف میرے پاس جمعہ کے دن آیا کرو اس کے علاوہ کسی اور دن نہیں۔میاں حضور اپنے مرشد کریم کے حکم کے مطابق صرف جمعہ کے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔اس طرح سے کچھ دن سلسلہ چلتا رہا۔ایک دن دادا میاں نے میاں حضور سے پوچھا تم حکمت جانتے ہو؟عرض کی جی ہاں،دادا میاں نے فرمایا کہ تو پھر تم دوا خانہ کیوں نہیں کرلیتے جاؤ آج سے تم دواخانہ کرو اور لوگوں کی خدمت کرواور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ نفع دو یہ بات تقریباً 1985 ع کی ہے۔ اس طرح سے میاں حضو ر نے دواخانے کی بنیاد رکھی اور اور دواخانے کا نام(الانعم یونانی دواخانہ) رکھا۔

کورنگی سے نیو کراچی دواخانہ منتقل کرنے کا حکم

میاں حضور نے جس وقت کورنگی میں دواخانے کا آغاز کیا تو اس وقت آپ کی رہائش بھی کورنگی ہی میں تھی۔انتہائی قلیل عرصے میں دواخانے کا شہرہ آس پاس کے علائقوں میں بھی ہونے لگا اور لوگ جوق در آنے لگے اور کورنگی دواخانے پر عوام کا ہجوم رہنے لگا۔اانہیں دنوں کی بات ہے کہ ایک دن میاں حضور دادا میاں کو ملنے ملیر گئے تو حال احوال دریافت کیے اور پوچھنے لگے کہ آج کل کیا مصروفیت چل رہی ہے؟میاں حضو ر نے عرض کی کہ آپ کے حکم سے دواخانے کا آغاز کیا ہے تو اب تو وہاں سے فرصت ہی بہت کم ملتی ہے،خلق خدا کی خدمت میں مصروف ہوں۔اس پر دادا میاں نے فرمایا کہ تم کورنگی کیا کررہے ہو؟جاؤ بس اب تمہیں نیو کراچی جانا ہے ہے۔اپنا سامان اٹھاؤ اور نارتھ کراچی میں قیام کرو۔میاں حضور بحکم دادا میاں نارتھ کراچی میں تشریف لے آئے ۔کورنگی میں دواخانہ بند کرکے اپنے مرشد کریم کے حکم پر سب کچھ ختم کرکے نارتھ کراچی میں داواخانہ شروع کیا جہاں ابھی تک خلق خدا کی خدمت میں مصروف ہیں۔جس وقت میاں حضور نے دواخانے کا آغاز نارتھ کراچی میں کیا تھا اس وقت میں جنگل تھا،آبادی بہت کم تھی ،میاں حضور فرماتے ہیں کہ اچانک سے چلتا دواخانہ بند کرکے بالکل وایران سی جگہ میں دواخانہ کھولنے میں کچھ عرصہ تک ؎ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ اس وقت موبائل کا سسٹم تھا ہی نہیں کہ وہاں کے مریض یہاں بلوالیتے لیکن چونکہ مرشد کریم کا حکم تھا اس لیے بلا تامل حکم پر عمل کیا۔ اپنے مرشد کے حکم پر اپنی مرضی قربا ن کرنے میاں حضور کا ثمرہ ملا کہ آج وہاں نیو کراچی میں اپنے مطب کے ذریعے خلق خدا کی حاجت روائی فرمارہے ہیں اور وہاں سے اپنے خلفاء ومریدین کو راہ سلوک کی پے چیدہ منازل طے کروارہے ہیں اور لوگ کراچی تو کیا پاکستان بلکہ بیرون ملک سے بھی اپنے روحانی وجسمانی مسائل کے حل کے لیے میاں حضور کی طرف رجوع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ میاں حضور نے سلسلے کا کام ماشاء اللہ1979 ع میں شرو ع کیا جو ابھی تک جاری و ساری ہے۔میا ں حضور نے سلسلے کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا ہے۔

اس واقعہ سے مریدین کے لیے انمول درس

یاد رکھیں کہ بزرگوں کے واقعات کو صرف سننے کی حد تک نہ رکھا جائے بلکہ اس ملنے والے درس کو حاصل کرکے اس پر عمل بھی کیا جائے۔میاں حضور کے مذکورہ دواخانے کی منتقلی والے واقعہ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اگر ہمارا پیر ہمیں کسی چیز کا حکم دے تو مرید صادق کا کام ہی یہی ہے کہ اپنے ارادے کو ختم کرے اور اسباب سے نظر ہٹاتے ہوئے اپنے پیر کے حکم پر عمل کریگا تو اس کو اس اپنے گمان سے بھی بڑھ کر فوائد وثمرات حاصل ہوں گے جیسا کہ میاں حضور نے اپنے مرشد کریم کے حکم پر عمل کیا۔اللہ تعالیٰ آ پ کی خاک پائے کے برکت سے ہمیں میاں حضور کے نقش قدم وی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔حقیقت یہی ہے کہ جو دنیا کو ترک کرتا ہے تو دنیا اس کے آگے ذلیل ہوکر آتی اور جو دنیا کے پیچھے لگتا ہے وہ دنیا کے سامنے ذلیل ہوتا ہے۔

حضرت خواجہ عثمان علی شاہ کے معمولات ووظائف

مرشد پاک خواجہ صوفی حکیم طارق احمد قادری فرماتے ہیں کہ خواجہ صوفی سید عثمان علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نےپہلا چلّہ بسم اللہ شریف کا کیا۔ دوسرا چلّہ سورۃ الاخلاص کا کیا ۔ اور تیسرا چلّہ چہل کاف شریف کا کیا۔ اور یہ تینوں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے آخر وقت تک اپنے معمولات میں رکھے۔ اسکے علاوہ مولیٰ حسین کی چوکی، ناد علی شریف کے بھی عامل تھے۔ آپ اپنے مریدوں کو سلسلہ کے اوراد و وظائف تعلیم فرماتے اور ان پر استقامت کی تعلیم فرماتے۔ اور جو چلّے آپ نے کئے انہیں میں سے جسے چاہتے چلّہ تعلیم فرماتے۔ دادا عثمان میاں رحمۃ اللہ علیہ کا زیادہ تر شُغل اذکار پر رہا اور کثرت سے ذکر اذکار کیا کرتے تھے۔

حضرت خواجہ عثمان علی شاہ کی تعلیمات

مصائب پراستقامت

آپ زیادہ تر تعلیم استقامت کی ہی فرمایا کرتے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ پریشانیوں اور مصیبت کے بارے میں فرماتے کہ سلوک کے راستے میں جو مصائب آتے ہیں انہیں برداشت کرو ۔ کیونکہ مصائب سے نکلنے کے بعد نجات تو مل جاتی ہے لیکن اسکی برداشت سے ترقی ہوتی ہے ۔ لہٰذا اِن مصائب سے نکلنے کی کوشش نہ کرو ۔ اور فرماتے کہ مصائب ٹالنے سے عارضی نجات تو ہو جاتی ہے پر مصائب پھر واپس آجاتے ہیں ۔ لہٰذا ان مصائب سے گزرو تاکہ آگے مشکلات میں کمی آتی رہے ۔

فقر و یقین

آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے کہ ہر انسان کی تقدیر اُسکی پیشانی پہ لکھی ہوتی ہے اور مہر کی طرح ہوتی ہے اور مہر دکھتی تو الٹی ہے پر جب کاغذ پر لگتی ہے تو سیدھی پڑھی جاتی ہے ۔ تو سجدہ کر تو تیری تقدیر سیدھی ہو جائےگی ۔ اور تقدیر سجدے ہی سے سیدھی ہوتی ہے ۔ اور آپ فرماتے کہ خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ ایسا ہونا چاہیے کہ چاہے بندے کی جیب میں کوئی پائی پیسہ نہ ہو پھر بھی بندہ یہ یقین کرے کہ میرا رب میرا اور پوری کائنات کا مالک ہے تو پوری کائنات میری ہے کیونکہ میرے رب نے پوری کائنات میرے لئے بنائی ہے ، تو اس لئے پوری میری ہے ۔ اور میں اپنے رب کے لئے ہوں ۔تو مجھے کائنات کے آگے جھکنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اپنے رب کریم کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے تو جب میں رب کریم کے آگے جھکوں گا تو کائنات میرے آگے جھک جائے گی ۔ کیونکہ ہر اسفل کو اعلیٰ کے سجدے کا حُکم ہے ۔ تو مجھ سے اعلیٰ تو میرا ربّ ہے تو اُس ہی کو سجدے کی ضرورت اُس ہی کو سجدی کر نا ہے تو جب میں اُس کو سجدہ کرونگا تو مُظاہرِحق ہو جاؤں گا ۔ جو مظاھر حق ہو جاتا ہے تو کائنات اس کے لئے مسخر کر دی جاتی ہے ۔

اوصاف حمیدہ کے لیے کوشش کرنا

آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے کہ ایک بند کمرے میں اندھیرا ہوتا ہے پر اُس کمرے میں چھوٹی چھوٹی جھریاں ہوتی ہیں تو جب سورج نکلتا ہے تو اُن جھریوں سے روشنی اندر آتی اور کمرہ روشن ہو جاتا ہے اور اندھیرا دور ہو جاتا ہے تو تم بھی اپنی ذات میں چھوٹی چھوٹی خوبیاں پیدا کر لو تاکہ جب ان سے روشنی آئے تو تمہارے اندر کا اندھیرا دور ہو جائے گا اور تم روشن ہو جاوَ گے ۔ تو اپنی کسی بڑی خوبی کے اندر نہ رہو چھوٹی چھوٹی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرتے جاوَ ۔

مرشد سے لگاوَ و رُجہان

آپ ادب تمام بزرگوں کا کرتے مگر آپ صرف اپنے پیر سے ہی خاص محبت ولگاوَ رکھتے تھے۔ مرشد پاک خواجہ طارق احمد قادری مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ اپنے سے زیادہ محبت کی وجہ سے آپ دیگر خانقاہوں اور مزارات پر بہت کم جایا کرتے تھے۔

خواجہ عثمان علی شاہ کی بزرگوں سے ملاقات و اوراد و وظائف کی اجازتیں


جس وقت آپ رحمۃ اللہ علیہ کو خلافت و اجازت ہوئی اُس وقت شاہ عنایت حسین رحمۃ اللہ علیہ حیات تھے ، تو آپ اُن کے پاس بھی گئے تو اپنے پیرو مرشد خواجہ حسن میاں رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ گئے ۔ ایک بار جب حضرت عثمان میاں رحمۃ اللہ علیہ حضرت حسن میاں رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ حیدر آباد دکن گئے ، حاضری کے لئے جب دکن گئے تو حضرت بندہ نواز گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ جو کہ وہاں کے سجادہ نشین تھے انہوں نے حضرت حسن میاں کو دعوت دی تھی ۔ تو انہی کے ایک معتقد تھے مولانا عبد القدیر نام تھا ان کا، اور یہ دکن میں جو اسلامیہ یونیورسٹی ہے اُس کے وائس چانسلر تھے ۔ اور وہ دادا حسن میاں سے بہت متاثر ہوئے اور حضرت عثمان میاں سے اُن کی بہت اچھی دوستی ہو گئی، تو انہوں نے دادا حسن میاں سے اجازت لے کر عثمان میاں رحمۃ اللہ علیہ کو حزب البحر کا چلّہ کروایا تھا اُس ہی درسگاہ گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ میں اور وہ چلّہ تین دن میں کروایا تھا ۔ اور آپ کو حزب البحر کے علاوہ اپنے خاندان کے اوراد واظائف کی بھی اجازت دی تھی ۔

آپ علیہ الرحمہ کی خواجہ حسن نظامی سے ملاقات

عثمان میاں رحمۃ اللہ علیہ کچھ عرصے دھلی میں بھی رہے تو وہاں آپ کی ملاقات خواجہ حسن نظامی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی اور حسن نظامی آپ سے ملاقات کے بعد بہت ہی متاثر ہوئے اور آپس میں بڑی محبت ہو گئی ۔ تو وہ عثمان میاں کو اپنے گھر قیام کے لئے لے کر گئے تو میاں حضور اُن کے ساتھ وہاں چلے گئے ۔ پھر حسن نظامی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنے گھر ہی میں 3 دن کا چلّہ کروایا حزب البحر کا اور دعائے خاص کی بھی اجازت دی اور ہندوستان میں دعائے خاص کی اجازت خواجہ حسن نظامی رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے آئی ہے اور آپ نے عثمان میاں کو دعائے خاص کے پورے طریقے تعلیم کئے ۔

آپ علیہ الرحمہ کی شاہ جمال کمبل پوش سے ملاقات

آپ کی ملاقات دھلی میں شاہ جمال کمبل پوش رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ہو ئی جو کہ شیخ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے قریب مدفون ہیں ۔ شاہ جمال کمبل پوش اور خواجہ حسن نظامی کی بڑی مقدمہ بازی ہوئی ۔ شاہ جمال کمبل پوش بھی ہندوستان میں حزب البحر کے بڑے عامل تھے تو شاہ جمال کمبل پوش رحمۃ اللہ علیہ نے عثمان میاں کو حزب البحر اور اوراد ِنظامیہ کی بھی اجازت دی ۔ اور کمبل کی بھی اجازت دی تھی کہ اگر آپ چاہیں تو آپ اپنے اوپر کمبل بھی ڈال سکتے ہیں ۔ یعنی کمبل پوش بھی ہو سکتے ہیں ۔ اور آپ ہی نے عثمان میاں رحمۃ اللہ علیہ کو سورۃ مزمل شریف کی بھی اجازت دی تھی۔

آپ علیہ الرحمہ کی دھلی سے واپسی

مرشد پاک فرماتے ہیں کہ یہ تمام واقعات عثمان میاں رحمۃ اللہ علیہ نے سُناکر مجھے بھی یہ تمام اجازتین عطا فرمائی ہیں اور فرمایا کہ عثمان علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی دھلی میں بہت سارے بزرگوں سے ملاقات رہی ہے۔ اس کے بعد آپ پاکستان تشریف لے آئے۔
اور آکر آپ نے جٹ لائن میں قیام فرمایا ۔ اُس وقت آپ کی عمر شریف 27سال کی تھی ۔ مرشد پاک طارق احمد قادری فرماتے ہیں کہ آپ حضرت عثمان میاں فرماتے کہ جب سے حسن میاں رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے شجرہ اور وظائف تعلیم فرمائے اور دیئے ہیں میں نے کبھی انہیں ترک نہیں کیا اور آج تک میرے معمولات میں شامل ہیں ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ دادا حسن میاں رحمۃ اللہ علیہ کے دئیے ہوئے وظائف پر ہمیشہ قائم و پابند رہے۔

عثمان میاں سے ان کے پیر و مرشد کی محبت و شفقت

خواجہ صوفی طارق احمد شاہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن میاں عثمان رحمۃ اللہ علیہ سے بہت محبت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ جو مرید حسن میاں رحمۃ اللہ علیہ کے پاکستان خصوصاً کراچی میں ہوتے اُن کے بارے میں عثمان میاں کو فرماتے کہ اُن کی تربیت آپ کرو۔ اور جس جس کی آپ تربیت کرتے جاوَ اُس کا نام میرے پاس بھیجتے جاوَ۔ تو آپ نے اپنے 7یا 8 پیر بھائیوں کی تربیت کی اور پھر آپ نے حسن میاں کے توسط سے ان پیر بھائیوں کو اجازت و خلافت سے بھی نوازا اور پھر عثمان میاں نے فرمایا کہ جو کچھ مجھے میرے پیر نے بتایا میں نے اپنے پیر بھائیوں سے کبھی نہیں چھپایا ۔ ( آپ کے خاص الخاص اوراد) آپ سورہ اخلاص اسماء کے ساتھ اور چہل کاف پر آپکی خصوصی ریاضت وتوجہ رہی ۔

آپ علیہ الرحمہ مرشد کی اجازت کے بغیر کچھ نہ کرنا

حضرت عثمان میاں مزید فرماتے تھے کہ جو چلّہ مجھے خواجہ حسن نظامی رحمۃ اللہ علیہ نے کروایا تھا وہ میں اپنے مرشد کی اجازت سے ایک بار پڑھتا ہوں اور آپ کو جن بزرگوں نے اوراد و وظائف یا چلّے کروائے ان سب کی اجازت آپ نے اپنے پیر حسن میاں سے لی اور پڑھا۔ اور آپ فرماتے تھے کہ جو بھی اوراد و وظائف دیگر بزرگوں سے ملے وہ بھی میں نے اپنے پیر کی اجازت سے پڑھے۔

طارق احمد شاہ صاحب مدظلہ العالی کی مرشد پاک سے آخری ملاقات

حضرت خواجہ صوفی طارق احمد قادری فرماتے ہیں کہ آخری ایّام میں میری ملاقات عثمان میاں سے تقریباً 40 منٹ کے قریب ہوئی تو آپ نے مجھے فرمایا کہ جو کچھ راز میرے پاس تھے اور جو کچھ مجھے میرے پیر سے ملا تھا میں نے وہ سب تمہیں تفویض کر دیا ہے ۔ اب میرے سلسلے کی ذمّہ داری تمہارے اوپر ہے جو سلاسل میں نے آج تک پو شیدہ رکھے تھے وہ سب میں نے تمہیں بتا دئیے اور جو ذکرو اذکار تھے وہ سب سمجھا دئیے اور بتا دئیے ہیں اب آگے تمہارے ہاتھ میں ہے ۔ تو مرشد پاک خواجہ صوفی طارق احمد شاہ صاحب نے عرض کیا کہ میاں میری کوشش تو ہو گی کہ میں سلسلہ کو چلاؤں مگر میرے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کیونکہ مجھے اتنی فرصت نہیں ملتی اپنے کمانے کھانے سے میں 2ٹائم مطب کرتا ہوں اپنے گھر کا پورا کرتا ہوں اور اُس کے بعد جو آپ نے اسباق دئیے ہیں اُس کو پورا کرتا ہوں ۔

تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ کام تم سے ہی لینا ہے اب کیسے لینا ہے وہی جانیں ۔ اور فرمایا کہ یاد رکھو کہ تم محتاج ہو تم کمزور ہو ، تمہارا رب محتاج ہے نہ کمزور ، اور یہ سب کچھ میں اپنی مرضی سے نہیں دے رہا اگر مرضی سے دیتا تو اپنی اولاد کو دیتا لیکن یہاں مرضی نہیں چلتی ۔ اب جاوَ میں نے تمہیں اللہ کے سپرد کیا ، اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو ۔

عثمان میاں کی کرامات


دروازے کا خود کُھل جانا

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مریدین میں سے صرف چار لوگوں کو حجرہ خاص میں جانے کی اجازت تھی ،جن کے نام غلام حیدر، جلال احمد، ناصر میاں، اور افضال میاں ہیں ۔ افضال میاں فرماتے ہیں کہ جب عثمان میاں رحمۃ اللہ علیہ کو کوئی کام ہوتا تھا تو جب آپ بُلاتے آواز دے کر توآپ کے حجرہ خاص کا دروازہ خود بہ خود کُھل جاتا اور جب ہم اندر جاتے تو خود ہی بند ہو جایا کرتا، کسی کو دروازہ کھولنے اور بند کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ،آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے ۔

جسم کے حصے ہو جانا

افضال میاں فرماتے ہیں ( یہ 1997ع کا واقعہ ہے ) کہ کچھ لوگ آپ سے ملنے کے لئے سانگھڑ اور دیگر مقامات سے آئے تھے، میں نے جاکر دروازے پر دستک دی تو اندر سے کوئی جواب نہیں آیا تو میں حجرے کا دروازہ خود کھول کر جوں ہی اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کے جسم مبارک کے 4حصّے ہوئے ہوئے ہیں۔ تو میں نے جلدی سے باہر آکر اپنے پیر بھائی سے کہا کہ لگتا ہے کہ میاں حضور کو کسی نے شہید کر دیا ہے تو آپ کے پیر بھائی ناصر میاں نے مجھے جھڑک کر کہا کہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو، تو میں نے اندر کا حال بیان کر دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم سب تو یہاں پر باہر ہی بیٹھے ہیں تو کون چلا گیا اور کیسے چلا گیا۔ تو افضل میاں نے کہا کہ چل کر دیکھ لو خود، تو ناصر میاں نے کہا کہ نہیں ابھی یہیں بیٹھ جاوَ ۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے سید عثمان علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے آواز دی کہ فضل میاں اندر آئیے تو جب اندر جا کر دیکھا تو آپ اپنی چار پائی پر تشریف فرما ہیں اور میاں صاحب نے فرمایا کہ کیوں خوف کھایا آپ نے اور یہ بات آپ کسی کو مت بتانا ۔

عثمان میاں کا کشف


آپ کے خلیفہ افضل میاں فرماتے ہیں کہ آپ کو اتنا کشف و کرامت حاصل تھا کہ ہم لوگ جہاں بھی ہوتے اور جو بھی باتیں کرتے لفظ با لفظ بتا دیا کرتے تھے اور فرماتے کہ یہاں تم نے یہ صحیح کہا اور یہ غلط کہا۔ اگر افضل میاں عثمان میاں صاحب کی کہیں تعریف کرتے آپ فرماتے کہ فلاں جگہ جو تم نے میری تعریف کی ہے غلط ہے۔ میری تعریف نہ کیا کرو ۔ آپ کو ہمارے تمام حالات کا علم رہتا تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو اگر ہمیں بلانا ہو اور ہم کسی دوسرے شہر یا علاقہ میں ہوں تو کان میں بلکل ایسی صاف آواز آتی جیسا کہ آپ ہمارے سامنے سے فرما رہے ہوں۔

قبل از حادثہ واقعہ کی پیشن گوئی

افضل میاں فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھے اپنے ایک کام کے سلسلے میں ستمبر1987ع کو ملتان جانا تھا ۔میں نے جب عثمان میاں کی بارگاہ سے جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ اس تاریخ کو آپ ملتان مت جانا، تو میں نے عرض کی کہ حضرت میری تو بکنگ ہو چکی ہے تو آپ نے فرمایا کہ اسے کینسل کروا دو۔ خیر میں نے بکنگ کینسل کروادی ۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اس دن ذکریا ایکسپریس کو حادثہ پیش آیا جس میں بوگی نمبر 22 کی جس میری بکنگ تھی اس کے تمام مسافر انتقال کر گئے ایک بھی نہیں بچا۔ یہ واقعہ سانگی کے مقام پر ہوا تھا ۔ اور آپ ہمیشہ پہلے سے ہی فرما دیا کرتے تھے کہ فلاں دن تم فلاں جگہ جا رہے ہو۔ کل تم ملتان جارہے ہو۔ یعنی اگر اسباب نہیں بھی ہوتے تھے تو اسباب جانے کے بن جاتے تھے اور جانا پڑتا تھا ۔

مریدین کی خواہش سماعت پر قوال کا مل جانا

افضل میاں بیان کرتے ہیں کہ ایک بار 17 تاریخ تھی، فاتحہ کا پروگرام تھا ۔ اس میں شرکت کے لئے سانگھڑ سے کچھ مہمان آئے ہوئے تھے ۔ فاتحہ کے بعد مہمانوں نے آپ سے عرض کی کہ میاں حٖضور سماع سنوائیں ۔عثمان میاں رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ افضل میاں گیٹ پر بیٹھ جاوَ اور جو گزرے اُسے اندر لے آنا ۔ اب میں گیٹ پر بیٹھ گیاتو آیک بندہ آیا اور بولا کہ عثمان میاں کا گھر کہاں ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ ہی ہے تو اُس نے کہا کہ ہم میر پورخاص سے آئے ہیں اور قوال ہیں اور یہاں ایک محفل میں آئے تھے تو صبح ہم چلے جائیں گے ۔ تو ہم نے سوچا کہ عثمان میاں کہ ہاں بھی ایک محفل کرلیں ۔ تو افضل میاں حیران ہو گئے کہ میاں نے فرمایا تھا کہ جو گزرے اُسے اندر لے آنا ۔ جو پہلا گزرا وہ قوال ہی تھا ۔اس طرح کے بے شمار کرامات وکشف کے واقعات آپ کی زندگی سے ملتے ہیں۔

اللہ تعالی ہمیں اپنے برزگوں کے نقش قدم پر چلنے اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

تمت بالخیر