Loading..


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ ؕ

تمام تعریفیں معبود برحق کے لئے جو تمام عالمین کا رب ہے اور تمام تعریفیں اللہ کریم و رحمن و رحیم کے لئے جس نے حضور ﷺ کے نور کو اپنے نور سے پیدا فرمایا اور اُ س نورِ مقدس و برحق (نورِ محمدی ﷺ) سے تمام عالم عرش و کرسی و زمین و آسمان و ارواح انبیاء و اولیاء وصالحین و موَمنین و جملہ کائنات و نظام کل تخلیق فرمایا ۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

قلت: يا رسول اﷲ! بأبی أنت و أمی! أخبرنی عن أوّل شئ خلقه اﷲ تعالی قبل الأشياء، قال: يا جابر! إن اﷲ تعالی قد خلق قبل الأشياء نور نبيک من نوره، فجعل ذلک النور يدور بالقدرة حيث شاء اﷲ تعالی، ولم يکن فی ذلک الوقت لوح ولا قلم، ولا جنة ولا نار، ولا ملک، ولا سماء ولا أرض، ولا شمس ولا قمر، ولا جني ولا انسي، فلما أراد اﷲ تعالی أن يخلق الخلق، قسم ذالک النور أربعة أجزاء: فخلق من الجزء الأوّل القلم، و من الثانی اللوح، ومن الثالث العرش، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأوّل حملة العرش، و من الثانی الکرسی، و من الثالث باقی الملائکة، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأوّل السموت، ومن الثانی الأرضين، و من الثالث الجنة والنار…

’’میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بتائیں کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے کیا چیز پیدا فرمائی؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے (نہ بایں معنی کہ نور الٰہی اس کا مادہ تھا بلکہ اس نے نور کے فیض سے) پیدا فرمایا، پھر وہ نور مشیتِ ایزدی کے مطابق جہاں چاہتا سیر کرتا رہا۔ اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم، نہ جنت تھی نہ دوزخ، نہ فرشتہ تھا، نہ آسمان تھا نہ زمین، نہ سورج تھا نہ چاند، نہ جن تھا اور نہ انسان۔ جب اللہ تعالی نے ارادہ فرمایا کہ مخلوقات کو پیدا کرے تو اس نور کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا: پہلے حصے سے قلم بنایا، دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش۔ پھر چوتھے حصے کو چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے حصے سے عرش اٹھانے والے فرشتے بنائے اور دوسرے سے کرسی اور تیسرے سے باقی فرشتے۔ پھر چوتھے کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے سے آسمان بنائے، دوسرے سے زمین اور تیسرے سے جنت اور دوزخ۔۔۔۔‘‘

(قسطلانی، المواهب اللدنيه، 1: 71، بروايت امام عبدالرزاق)

اور حقیقت برحق سبھی یہ ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلّی سے سب سے پہلے جو اوّلین چیز ظہور میں آئی وہ نورِ محمدی ﷺ اور حقیقت احمدی تھی اور آپ کی ذات والا صفات سے جمیع کائنات کے حقائق اور تفاریق و تفاصیل ظاہر ہوتی گئیں ۔ جسم انسانی کی صورت عنصری حضرت ابو البشر آدم علیہ السلام کی شکل میں ظاہر ہوئی ۔ یہ نوع انسانی آپ ہی کے اصل اصول تصور سے بنی تھی ۔ انبیاء و اولیاء اور تمام مخلوقات کے اعمالِ خیر حضرت آدم کے جریدہ عمل میں ثابت ہوئے تھے ۔ نوع انسانی کا ہر کمال جس صورت میں بھی ظاہر ہوا وہ آپ کی ذات جامع برکات میں موجود تھا ۔ ساری مخلوق سے افضل نبی آدم ہیں ۔ مگر جناب فیض مآب احمد مجتبیٰ ﷺ کا شرف و منزلت تمام عالم پر جس طرح ظاہر ہوا اسکی تفصیل و تصریح نہیں کی جا سکتی ۔ اگر آپ کی ذات کی تخلیق منظور نہ ہوتی تو زمین و آسمان پیدا نہ کئے جاتے ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جتنے انبیاء کرام کائنات ارضی پر ظاہر ہوئے اور شرف نبوت اور منصبِ رسالت سے سرفراز ہوئے اس وقت تک درجہءِ کمال کو نہیں پہنچ سکتے تھے جب تک ان کے مناقب و مقامات میں جناب رسول مقبول ﷺ کے نور کی جلوہ گری نہ ہوئی ہوتی۔ ان حضرات میں جتنے حسنات و کمالات پائے جاتے ہیں وہ صاحبِ لوائے الحمد کی بدولت متصف و ملقب ہوتے رہے ہیں ۔ آپ تمام مخلوقات سے کامل تر اور فاضل تر ہیں ۔ تمام مخلوقاتِ نوری ، ناری ، جسمی ، ورسمی، ودھمی پر آپ کی شان بے شک حاوی ہے ۔ اور اٹھارہ ہزار عالم علوی و سفلی جو تخیل و تصور میں نہیں آسکتے آپ ﷺ کی افضلیت کے زیر سایہ ہیں ۔ آپ ہر فرد گروہ ، قوم اور صنف سے افضل و اعلیٰ ہیں ۔ چنانچہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کی اتباع میں خدائے کریم نے گروہ انبیاء علیھم السلام کو مبعوث فرمایا کہ ظہورِ اوّل آدم علیہ السلام سے زمانہ ءِ عیسیٰ علیہ السلام تک تمام نے آپ ہی کی اتباع صادق و برحق میں بنی آدم کو صراط مستقیم کی تعلیم دی اور ہدایت کی ۔

آپ کی اتباع کے بغیر ہدایت حق کا ہونا ہر ایک لئے ناممکن و محال ہے ۔ آپ ہی کی اتباع کے سبب حضرت انبیاء کرام کو بیک وقت دو فضیلتیں عطا فرمائیں ۔ ایک وِلایت جس کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل ہوتا ہے ۔ دوسرا نبوت جس کی وساطت سے اللہ تعالیٰ کے فیض برحق کو مخلوق تک پہنچایا جا تا ہے ۔ ولایت حضرت حق کی نگاہِ التفات کا مظہر ہے اور نبوت رجوع الیٰ الخلق ہے ۔ مگر اِس دلیل کے باوجود اِس بات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ اولیاءِ امت محمدیہ ﷺ انبیاءِ سابقہ سے فضیلت زیادہ رکھتے ہیں ۔ اگرچہ حدیث پاک میں جو وضاحت کی گئی ہے کہ میری امت کے علمائے برحق بنی اسرائیل کے انبیاء کی مثل ہیں ۔ مگر اس کا مقصد یہ ہے کہ اولیائےکرام کا طبقہ ہر امت اور ملت میں انبیائے کرام کے بعد ارشاد و ہدایت کا امین ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خود نبی کریم ﷺ نے سابقہ امتوں کے صالحین و اولیاء اللہ کے واقعات صحابہ کرام کو بڑے احترام سے بیان فرمائے ہیں ۔ جس طرح نبی کا معجزہ تصدیق نبوت کی دلیل ہے اسی طرح ولی اللہ کی کرامت اسکی ولایت کی تصدیق کرتی ہے ۔ پر اولیائےکرام اس وقت تک کرامت کا اظہار نہیں فرماتے جب تک دینی مجبوری و ضرورت در پیش نہ ہو ۔ جس طرح انبیائے کرام کے لئے اخفاء کرامت لازم ہے۔اولیاء اللہ کا گروہ ہی جنتی گروہ ہے۔ان مقبولان بارگاہ الٰہی کے صدقے سے کائنات کا نظام چل رہا ہوتا ہے۔ان بزرگ ہستیوں میں سے دور حاضر کی بزرگ شخصیت شیخ طارق احمد شازلی دامت برکاتہم العالیہ بھی ہیں۔ صالحین کے حالات وواقعات جاننے میں دلوں کی جِلا،روحوں کی تازگی اور فکْرو نَظَر کی پاکیزگی پنہاں ہے،اس مقصد کے تحت ذیل میں ہم آپ کا تعارف پیش کرتے ہیں۔