Loading..


ارشاد:۔ توحید کی تین اقسام ہیں
توحیدِاقوالی
توحیدِ ایمانی
توحیدِ حالی

توحیدِ اقوالی:-اس میں مؤمن و کافر سب برابر ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلۡحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَۙ﴿۱ ﴾ یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور عالمین میں سب ہیں مومن بھی کافر بھی۔ وہ مؤمن کو بھی رزق دیتا ہے اور کافر کو بھی وہ سب کا پالنےوالا ہے۔

توحیدِ ایمانی:-اس قسم سےکافر خارج ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔اس توحید میں تمام مؤمن برابر ہیں چاہے وہ انبیائے کرام ہوں یا اولیائے عظام ہوں یا ایک عام مؤمن کیونکہ نفسِ ایمان میں تو سب برابر ہیں جیسا کہ اللّٰہ تَعالٰی فرماتا ہے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُؕ﴿۴﴾ اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۵﴾ یہ دعا ہر کوئی پڑھتا ہے چاہے وہ نبی ہو ولی ہو یا ایک عام مؤمن اس میں سب کے سب برابر ہیں۔

توحیدِاحوالی:-توحید کی اس قسم میں کوئی بھی برابر نہیں ۔ہر ایک کا حال الگ الگ ہے۔ ایک کافر کسی مومن جیسا نہیں ہو سکتا اسی طرح اایک عام مومن کسی ولی جیسا اور ایک ولی کسی نبی جیسا بلکل بھی نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ اللّٰہ تَعالٰی فرماتا ہے :صِراطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۬ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾ اور فرماتا ہے " اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ ۚ " سب پر انعام الگ ہے اس لیے سب کا حال بھی الگ الگ ہے۔

ارشادتوحیدِ افعالی یعنی اپنے اور جملہ عالم کے اختیار وافعال سے باہر نکلنا ہے۔ توحیدِ صفاتی اپنی صفات سے ،جبکہ توحیدِ ذاتی اپنی ذات سے نکلنے کا نام ہے۔(اسی کو فنا فی الافعال،فنا فی الصفات ،فنا فی الذات بھی کہتے ہیں)

تفصیل

اسکی تفصیل یہ ہے کہ توحیدِ افعال میں سالک اپنے اور جملہ عالم کے جملہ افعال کو رب کہ طرف منسوب کرے اسی کی جانب سے سمجھے، اپنا اور عالم کا اس میں کچھ اختیار نہ جانے اپنے افعال کا تعلق اللّٰہ تَعالٰی سے ایسا جانے جیسا تالے کی حرکت کا چابی سے ہوتا ہےیا مردہ کی حرکت کا غسال سے ہوتا ہے ،کسی کی حرکت کو سوائے اللّٰہ تَعالٰی کے کسی جانب منسوب نہ کرے کیونکہ ایسا کرنے کو اَھْلُ اللّٰہ شرک تصور کرتے ہیں۔

توحید افعال ،توحید صفات وتوحید ذات کو سیدی الشیخ احمد بن عجیبۃ الحسینی الشاذلی رَحۡمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ نے اپنےرسالے''کشف النقاب عن سرلب الالباب '' میں بڑے ہی پیارے انداز میں بیان کیا ہے(جس کا اردو ترجمہ مفتی محمد ابو بکر صدیق الشاذلی دامت برکاتہم العالیہ نے کیا ہے )

لہٰذاراقم اس مقام میں اس کا تذکرہ مفید سمجھتا ہے تا کہ مسئلہ کی اچھی طرح وضاحت ہو جائے۔لکھتے ہیں:۔

طلسام توحید ِ ال افعال :

جان لو!بندے کے تمام افعال اللّٰہ تَعالٰی ہی کی جانب سے ہیں بلکہ وجود میں اللّٰہ تَعالٰی کے سوا کوئی فاعل نہیں ۔ اللّٰہ تَعالٰی فرماتا ہے: وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ؕ مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ؕ اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہے ان کا کچھ اختیار نہیں۔

اور فرماتا ہے:

اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ ﴿۱۰۷﴾ بیشک تمہارا رب جب جو چاہے کرے اور فرماتا ہے" وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾ اور اللّٰہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو "وَلَوْ شَآءاللّٰہُ مَا اقْتَتَلُوۡا۟ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیۡدُ﴿۲۵۳﴾ اور اللّٰہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے مگر اللّٰہ جو چاہے کرے۔ پھر حق تبارک وتعالیٰ نے بندے کے قلب پر ایک طلسم (پردہ) ڈال دیا جس سے توحید ِافعال کا نور چھپ گیا ،اور جو اللّٰہ تَعالٰی نے بندے کو ظاہری طور پر اختیار دیا تو اسے وہم ہوگیا کہ وہ با اختیار ہے کہ جو چاہے کرے اور جو چاہے ترک کردے ۔ یہ ایسی بات ہے جسکا احساس ہر عاقل کو اپنے نفس کے بارے میں ہوتا ہے حتی کہ وہ رعشہ (بے ارادی حرکت) اور ارادی حرکات میں فرق کرتا ہے ۔ اسی لئےفرقہ جبریہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ بدھو لوگ ہیں کہ انھیں ان دونوں حرکتوں میں فرق محسوس نہیں ہوتا ۔اور اس ظاہری اختیار کے سبب شریعتیں آئیں اور اسی پر حساب و کتاب و ثواب و عقاب مرتب ہوگا ۔اور حقیقت امر میں اللّٰہ تَعالٰی کے سوا کوئی فاعل نہیں ،مگر یہ الوہیت کے رازوں میں سے ایک راز ہے جسے اللّٰہ تَعالٰی نے اپنے بندوں سے مخفی کردیا اور ظاہر میں اسے اختیار دیدیا تاکہ اس پر حجت قائم ہو۔" قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبٰلِغَۃُ ۚ "اور یہ وہ راز ہے جسے اللّٰہ تَعالٰی نے بندوں سے چھپالیا ہے کیونکہ بندے کہ لئے یہ بہتر نہیں کہ اسے اپنے نفس کے لئے حجت بنائے اور عمل چھوڑ بیٹھے یا گناہوں میں پڑ جائے ،وجہ اسکی یہ ہے کہ کہ ازروئے شریعت حسنِ عمل مطلوب ہے اور شریعت کا تعلق ظاہر سے ہے۔حجاب کی ثقافت و رقت کے اعتبار سے یہ طلسام کبھی کثیف ہو جاتا ہے اور کبھی رقیق ۔

پس جب حجاب کثیف ہوتا ہے تو بندے میں تدبیر و اختیار بڑھ جاتا ہے حتی کہ کبھی اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہی فاعل مختار ہے جیسا کہ معتزلہ کو وہم ہوا اور جب یہ حجاب و طلسام رقیق ہوتے ہیں تو بندے کی تدبیر و اختیا ر کم ہوجاتے ہیں اور وہ اپنی حول وقوۃ سے نکل جاتا ہے ۔پس جب شیخِ تربیت کی صحبت میں آ جاتا ہے تو وہ اپنے آپکو کامل طور پر شیخ کے سپرد کردیتا ہے اور شیخ اسے اپنے امر و اختیار سے نکال دیتا ہے ۔ پس وہ شیخ کے امر و نہی پر ٹھہر جاتا ہے ۔اور جب اسے اللّٰہ تَعالٰی کی جانب سے سمجھ ملتی ہے تو اسکا قلب تمام معاملات میں اللّٰہ تَعالٰی کو اپنے پر حکم جانتا ہے اور وہ کلی طور پر اپنی تدبیر و اختیار سے نکل جاتا ہے ۔پھر اسکے بعد اگر اس سے کوئی تدبیر و اختیار ظاہر ہو تو وہ اللّٰہ تَعالٰی کے ذریعے سے ،اللہ کی جانب سے اور ا اللّٰہ تَعالٰی ہی کی طرف سے ہوتا ہے ۔جس سے وہ تدبیر کرتا ہے اور اپنے کام پر غور کرتا ہے ۔اس وقت بندے سے توحیدِ افعال کا طلسم ٹوٹ جاتا ہےپھر وہ ازروئے علم کے نہیں بلکہ اپنے ذوق و کشف سے دیکھتا ہے کہ تما م افعال اللّٰہ تَعالٰی ہی کی طرف سے ہیں۔ چناچہ وہ ان ستر ہزار میں داخل ہوجاتا ہے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونگے ،کیونکہ اب اسکا کوئی فعل باقی ہی نہ رہا جس پر اس سے حساب کیا جائے بر خلاف دیگر لوگوں کے ،کیونکہ وہ اپنے نفس کی کثافت کی وجہ سے فعل کی نسبت اپنے یا دوسروں کی طرف کرتے ہیں ۔اسکی علامت یہ ہے کہ لغزشوں کے وقت اسکی امید کم ہو جاتی ہے اور عمل کی موجودگی مین قوی ہوجاتی ہے ۔اور جو اسے تکلیف دے اس پر غضب کرتاہے باوجودیہ کہ وہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللّٰہ تَعالٰی کے سوا کوئی فاعل نہیں اور بندہ اختیار کے قالب میں مجبور ہے لیکن اس مقام پر مجرد علم کافی نہیں ہے بلکہ ذوق صریح ضروری ہے۔اس ذوق صریح کی تعبیر شیخ عبدالقادر جیلانیرَحۡمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ نے یوں کی ہے : ارانی کا لآلات وھو محرکی انا قلم والاقتدار اصابع ( یعنی میں خود کو مثل آلات کے دیکھتا ہوں اور وہ میرا محرک ہے ،میں قلم ہوں اور قدرت تو انگلیوں میں ہے ۔) ولست بجبری ولکن مشاھد فعال مرید مالہ من ینازع ( یعنی میں جبری عقیدے کا نہیں ہوں بلکہ مشاہد ہوں وہی فاعل حقیقی ہے جو چاہے کرے اس سے کوئی ٹکر نہیں لے سکتا ۔

اور جب بندے کو یہ ذوق حاصل ہو جاتا ہے تو اس سے حقیقت و شریعت کے ما بین اشکال و تعارض زائل ہوجا تا ہے۔ پس بندہ حقیقت کو اسکے مقام میں یعنی باطن میں رکھتا ہے اور شریعت کو اسکے مقام یعنی ظاہر میں رکھتا ہے ۔ چنانچہنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے :"اِعۡمَلُوۡا فَکُلٌ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہٗ شریعت و طریقت کے مابین اجتماع ہے۔"اعملوا" سے مراد شریعت ہے ۔اور "فَکُلٌ مُیَسَّرٌ" سے مراد حقیقت ہے ۔گویا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا "اعملوا" (عمل کرو )یعنی ظاہر میں عمل کی طرف متوجہ ہوجاؤ ،اور حقیقت میں تم عامل نہیں ہو ۔

اور اسی طرح بنی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان : "لَنۡ یَدۡخُلُ اَحَدُکُمُ الۡجَنَّۃَ بِعَمَلہٖ"(تم میں کوئی اپنے عمل سے ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا )حقیقت ہے۔ اور اللّٰہ تَعالٰی کا فرمان : " اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ ﴿۳۲﴾ "شریعت ہے ۔پس شریعت بندے کی طرف فعل کی نسبت کرتی ہے اس اختیار کی وجہ سے جو اسے ظاہر میں دیا گیا ہے جو کہ کسب کہلاتا ہے ۔اور حقیقت اسکا انکار کرتی ہے نفس امر کی وجہ سے ۔اور اسی طرح بندہ حقیقت و شریعت کے ما بین ہوتا ہے ۔چنانچہ حقیقت باطن میں اعتقاد ہے اور شریعت ظاہر میں عمل ہے ۔ کفار نے صرف حقیقت کو لیا اور کہا " لَوْ شَآءَ اللہُ مَاۤ اَشْرَکْنَا " (یعنی اللّٰہ تَعالٰی چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے) "وَقَالُوۡا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰہُمۡ ؕ " (اور بولے اگر رحمٰن چاہتا تو ہم انہیں نہ پوجتے ) تو کفار کو اس عقیدے نے کوئی فائدہ نہیں دیا ،کیونکہ انہوں نے شریعت کو معطل کردیا اور اسکے منکر ہوئے ۔اسی طرح وہ شخص جو تقدیر کو دلیل بناتے ہوئے کہے :مجھے بلالیا اور دروازہ بند کردیا پس میرا کیا عمل دخل ہے۔ حالانکہ اللّٰہ تَعالٰی نے بندے کو ظاہر میں جو اختیار دیا ہے وہ اسے حاصل ہے کیونکہ وہ کفر سے نکلنے پر قادر ہے، مثلا ًکلمہ شہادت کا تلفظ کر سکتا ہے ۔ہاں جہاں تک باطنی جبر اور قہر الٰہی کا معاملہ ہے اسکا تکلیف سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ بندے کی گردن میں نہیں ہے بلکہ وہ تو ربوبیت کے قہر کے رازوں میں ہے جو اللّٰہ تَعالٰی نے اپنے لئے مختص کرلیا ہے۔ " لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾ " (اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا(۔

حضرت سہل تستری نے فرمایا : الوہیت کے راز ہیں اگر وہ ظاہر کردئے جائیں تو نبوت باطل ہوجائے اور نبوت کے راز ہیں اگر وہ ظاہر کردئیے جائیں توعلم باطل ہوجائے اور علم کے بھی راز ہیں اگر انہیں ظاہر کردیا جا ئے تو احکام باطل ہو جائیں ۔

چنانچہ اگر الوہیت کے اسرار بغیر چادر کے ظاہر کردیئے جائیں تو ساری مخلوق حصولِ علم سے مستغنی ہو جا ئے کیونکہ وہ احدیت کے سمندروں میں غرق ہوگی ،چنانچہ انہیں کسی واسطے کی ضرورت نہ رہے گی ۔اور اگر نبوت کے اسرار خلق پر ظاہر کردیئے جائیں تو سب لوگ علماء ہو جائیں گے اس علمِ الٰہی کے ظاہر ہونے کی وجہ سے جو انکے باطن میں مخفی رکھا گیا تھا ۔چنانچہ وہ انبیاء سے علم لینے سے مستغنی ہو جائیں گے ۔اور اگر علم کے اسرار ظاہر کردیئے جائیں یعنی سعادت مند و بد بخت کو ظاہر کردیا جائے تو احکام باطل ہوجائیں گے۔ شقی کہے گا مجھے کوئی عمل فائدہ نہیں دیگا، لہٰذا وہ عمل نہیں کریگا۔ سعید کہے گا : مجھے عمل کی حاجت نہیں چنانچہ شریعت کے احکام باطل ہو جائیں گے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس معاملہ کو مخفی کر دیا اور ہر ایک کو اپنی توحید و طاعت کی طرف بلایا ۔جس کے لئے سعادت سبقت کر گئی تھی اسے ہدایت دیدی اور جس کے لئے شقاوت سبقت کر گئی تھی اسے چھوڑ دیا ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "وَاللّٰہُ یَدْعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ؕ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَ ا طٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿۲۵﴾ اور اللّٰہ تَعالٰی سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہےاور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا اور جس کے لئے اعلیٰ مراتب نے سبقت کی اسے اسکے اسباب کی طرف متحرک کردیتا ہے ۔ اور جس کے لئے درمیانی رتبہ نے سبقت کی اسے اسکے اسباب ِ مقدرہ کی طرف متحرک کر دیتا ہے چنانچہ اس دنیا میں رہتے ہوئے تقدیر سے حجت پکڑنا درست نہیں ۔

اگر تو کہے کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ آدم و موسیٰ عَـلَـيْهِما السَّلَام کے ما بین بحث ہوئی تھی، موسیٰ عَـلَـيْهِ السَّلَام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہی ہیں وہ جنھوں نے ہمیں نا مراد کردیا اور جنت سے نکلوادیا۔ تو آدم عَـلَـيْهِ السَّلَام نے فرمایا :اے موسیٰ! کیا تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو کہ جسکا فیصلہ اللّٰہ تَعالٰی نے میرے پیدا کرنے سے پہلے کردیا تھا؟ پس آدم عَـلَـيْهِ السَّلَام نے موسیٰ عَـلَـيْهِ السَّلَام پردلیل قائم کردی یعنی ان پر غالب آگئے ۔

ہم جوابا کہیں گے کہ یہ بحث ان دونوں مقدس ہستیوں کے انتقال کے بعد برزخ میں ہوئی تھی نہ کہ دارتکلیف میں ۔اور برزخ تو دارِ تعریف یعنی پہچان کی جگہ ہے ،چنانچہ وہاں تقدیر سے دلیل پکڑنا درست ہے ۔

اگر تم اعتراض کرو کہ بندے پر اس فعل کی وجہ سے عتاب کیسے ہوگا جو حقیقت میں اس نے کیا ہی نہ ہو؟ ہم کہیں گے کہ اس پر عذاب اس لئے ہوگا کہ اس نے ظاہری اختیار کی وجہ سے فعل کی نسبت اپنے نفس کی طرف کی تھی ۔

روایت ہے کہ جب بندہ حد تکلیف (بلوغ) کو پہنچتا ہےتو اللّٰہ تَعالٰی اسکی طرف ملائکہ بھیجتا ہے (شاید وہ حفظہ ہوں) پس وہ اس سے کہتے ہیں کہ تو کون ہے؟ وہ جواباً کہتا ہے کہ میں اللّٰہ تَعالٰی کا بندہ ہوں۔ تو وہ فرشتے اس کے لئے عبودیت کی گواہی دیتے ہیں۔ پس جب وہ پہلی بار حرکت کرتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ فعل کس نے کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے میں نے۔ پس وہ فعل کی نسبت اس کے نفس کی طرف ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ پس اسی نسبت پر حساب ہوگا۔ اور جو ذوق و کشف کے ساتھ اس نسبت سے نکل جاتا ہے اور اسے اللّٰہ تَعالٰی کی طرف سے دیکھتا ہےتو اس سے حساب ساقط ہو جاتا ہے جیساکہ ان سترہزار لوگوں کے حوالے سے گذرا۔واللّٰہ تَعالٰیاعلم

طلسام توحید ِ الصفات

جان لو کہ اللّٰہ تَعالٰی نے اس جسم انسانی کو نمونہ ربانی بنایا، اسکی صفات رحمٰن کی صفات کی حکایت کرتی ہیں کہ اس میں قدرت، ارادہ، سمع،بصر، کلام ہے۔ اور بعض تاویلات کے مطابق حدیث:﴿اِنَّ اللّٰہَ خَ لَقَ آدَمَ عَلیٰ صُوۡرَتِہٖ کا یہی معنیٰ ہے سوائے یہ کہ یہ صفات جو اللّٰہ تَعالٰی نے انسان میں رکھی ہیں وہ حادث اور ناقص ہیں ۔جبکہ حق تَعالٰی کی صفات قدیم اور کامل ہیں ۔انسان میں یہ صفات ایسی ہی چھپی ہوئی ہیں جس طرح شاخ میں پھل اور دودھ میں مکھن۔ چنانچہ حق تَعالٰی کی صفات قدیمہ بندے کی صفات حادثہ سے چھپ گئی ہیں۔ کبھی خرق عادت واقع ہوتی ہیں چنانچہ بندے میں علم و قدرت یا سمع و بصر یا کلام اس طور پر ظاہر ہوتے ہیں کہ عقلیں حیران ہوجاتی ہیں پھر وہ صفات اس سے مستور ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا بندہ اپنی اصل کی طرف لوٹ آتا ہےاور اپنی حد پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ پس جب حق تَعالٰی کی صفات بندے کے نفس کی صفات کے طلسام سے چھپ گئیں تو بندہ گمان کرنے لگا کہ وہ اپنی قدرت سے قادر، اپنے ارادہ سے مرید، اپنی حیات سے زندہ، اپنی سماعت سےسنتا، اپنی بصارت سے دیکھتا اور اپنے کلام سے بات کرتا ہے۔ اور حقیقت میں بندہ کی صفات حق تعالیٰ کی صفات سے قائم اور اسکی شعاعوں میں سے ایک شعاع ہے جس میں اصلا کوئی تاثیر نہیں۔ جب بندے سے یہ وہمی طلسام ٹوٹتا ہے اور توحید صفات سے حجاب اٹھتا ہے تو اسے تحقیق ہو جاتی ہے کہ اسکی نہ تو ذاتی قدرت ہے، نہ ارادہ، نہ علم اور نہ حیات مگر اللّٰہ تَعالٰی کی قدرت اور ارادے سے ہے۔ اسی طرح دیگر تمام صفات کا حکم ہے۔ پھر بندہ اللّٰہ تَعالٰی کی قدرت سے حرکت کرتا، اسی کے ارادہ سے ارادہ کرتا، اللّٰہ تَعالٰی ہی کے واسطے سے سنتا اور دیکھتا اور اللّٰہ تَعالٰی ہی کے ذریعے کلام کرتا ہے۔ اسی کے بارے میں شیخ ششتری رَحۡمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ فرماتے ہیں کہ ہم اللّٰہ تَعالٰی ہی کے واسطے سے بولتے ہیں اور اللّٰہ تَعالٰی ہی کے ذریعے سے سنتے ہیں۔ اور قطب عبد السلام ابن مشیش کا فرمان ہے: یہاں تک کہ میں نہ دیکھوں، نہ سنوں، نہ پاؤں اور نہ محسوس کروں مگر اسی کے واسطے سے۔ اسی کی مثل حدیث شریف بھی وارد ہوئی ہے کہ "پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اسکی سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اسکی بصارت بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے" و اللّٰہ تَعالٰی اعلم

طلسام توحید ِذات

جان لو کہ حق جل جلا لہ چھپا ہوا خزانہ ،لطیف ازلی تھا جسے کوئی نہ پہچانتا تھا جب اس نے ارادہ کیا کہ وہ پہچانا جائے تو اس خزانے کی تجلیات میں سے تجلی کی، پھر اپنے اسمِ ظاہر کے مقتضی کے مطابق اس نے تجلی کو ظاہر کیا پھر اپنے اسمِ باطن کے مقتضی کے طور پر اسے چھپا دیا۔ چنانچہ وہ تجلی ظاہری و باطنی ہو گئی۔ اور اس پر احکامِ عبو دیت، اوصافِ بشریت اور صفات ِ حدوث مثل حس، تکوین، تشکل، تغیر اور تحیز کے ذریعے پردہ ڈال دیا ، حالانکہ حقیقیت میں کوئی حادث نہیں بلکہ اسکی تجلی اور ظہور کا تجدد ہوتا ہے ۔چنانچہ وہ تجلی ظاہر ہونے کے بعد چھپ گئی ۔ لہٰذا اس پر اسمِ ظاہر و باطن متحقق ہوگیا ،اب جو اسکی اصل کی طرف نظر کرتا ہے اور اسکے حسی وجود سے غائب ہو جاتا ہے تو اسکی وجہ سے حق تَعالٰی سے محجوب نہیں ہوتا اور اس میں حق تَعالٰی کو ظاہری طور پر دیکھتا ہے۔ اور جو اسکے ظاہری حسی وجود کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو وہ حق تَعالٰی کے مشاہدے سے محجوب ہو جاتا ہے ۔اور یہ ظاہری وجود اسکے حق میں ظلمت بن جاتا ہے۔ اسی لئے شیخ(تاج الدین احمد بن عطاء اللہ اسکندری ) نے "الحکم" میں ارشاد فرمایا : کل کائنات ظلمت ہے، اس میں حق تَعالٰی کے ظہور نے اسے منور کیا ہے۔ پس وہ اہل حجاب کے حق میں ظلمت ہے اور اہل عیان کے حق میں کائنات ساری کی ساری نور ہے۔ چنانچہ جب بندہ شیخ تربیت سے متصل ہوتا ہے تو وہ اسے اسکی روحانیت کے مشاہدے کے ذریعے اوصاف بشریت سے،نور ربوبیت کے ظہور کے ذریعے احکام عبودیت سے، اسرار ذات کے معانی کے شہود کے ذریعے سے احساس کائنات سے غائب کردیتا ہے۔ پھر بندہ اپنے محبوب کی حضوری کے ذریعے سے اپنے نفس سے، اور مکون کی حضوری کے ذریعے کون سے غائب ہو جاتا ہے۔ اور وہ مقام ِ محبوبیت کو پا لیتا ہے جیسا کہ گذشتہ حدیث شریف کی بعض روایات میں وارد ہوا (فَاِذَا اَحۡبَبۡتُہٗ کُنۡتُہٗ) یعنی جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو وہی ہو جاتا ہوں ۔

پس جب یہ طلسام یعنی بندے کا وجودِ وہمی ٹوٹتا ہے اور اوصاف بشریت کے قائم ہونے کے باوجود ان سے غائب ہو جاتا ہے تو اسکے لئے وہ خزانہ ظاہر ہو جاتا ہے جو خفی ہے جو کہ ذات اقدس ہے۔ چنانچہ بندہ مقامِ احسان میں داخل ہو جاتا ہے اور شہود و عیان کا مرتبہ پا لیتا ہے اور یہی ولایت ِ کبریٰ اور سعادتِ عظمیٰ ہے۔ اور یہی مراد ہے ابن الفارض رَحۡمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کے اشعار سے ہے:

"بذالک سر ّ طال عنک اکتتامہ لاح صبا ح کنت انت ظلامہ"

اسی وجہ سے وہ راز تجھ سے چھپا رہا مگر جب صبح روشن ہوئی تو تُو ہی اسکی تاریکی تھا۔

"فانت حجاب القلب عن سرّ غیبہ ولولاک لم یطبع علیہ ختامہ"

پس تو ہی اسکے پوشیدہ راز کے لئے دل کا پردہ تھا اور تو نہ ہوتا تو اسے مہر بند نہ کیا جاتا ۔

اور ششتری نے شعر میں کہا :

" یا قاصد اعین الخبر غطاہ اینک الخمر منک والخبر والسرّ عندک "

یعنی" اے اصل خبر کو تلاش کرنے والے اسکا پردہ تمہارا قول "تو کہاں ہے'' ہے، پردہ تیری ہی جانب سے ہے اور خبر و راز تیرے ہی پاس ہے ۔

جان لو! کہ اس طلسم کا وجود حق ہے اور اسکی حکمت ذات عالی کی حفاظت اور اسرار ربوبیت کی پردہ پوشی کرنا ہے تا کہ وہ خزانہ دفن رہے اور راز چھپا رہے ۔ اگر یہ طلسام نہ ہوتا تو راز کھل جاتا اور نا ا ہل بھی اسے پالیتا اور ظاہر کرکے استدلال کرتا اور زبان اشتہار سے اسکی نداء کرتا۔ یہی وہ رد ہے جسکی طرف حدیث شریف میں اشارہ کیا گیا :"جنت عدن میں لوگوں کے درمیان اور انکا اپنے رب کی زیارت کے درمیان سوائے کبریائی کی چادر کے کچھ نہیں جو اسکے چہرے پر ہے" ۔ اور یہ حس کی چادر اور اسرار معانی کے چہرے پر پھیلی ہوئی قہریت ہے اور یہ انکے لئے ہے جو دنیا میں اہل حجاب ہیں ۔

اور وہ لوگ جن سے طلسام توحید زائل ہوگیا تو ان سے حق تَعالٰی ایک ساعت کے لئے محجوب نہیں، نہ دنیا میں اور نہ آ خرت میں۔ پس وہ ہر لمحے ذات رحمٰن کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ یہ طلسام عالم فرق، عالم حکمت، عالم ملک، عالم اجسام اور عالم شہادت کہلاتا ہے۔ اور وہ خزانہ جو اس طلسام کے ذریعے مستور ہے وہ عالم جمع، عالم قدرت، عالم ملکوت، عالم ارواح اور عالم غیب کہلاتا ہے۔ اور جہاں عالم جبروت کا معاملہ ہے تو وہ فیض دینے والا ایسا لطیف سمندر ہے کہ جس سے ملکوت کے انوار بہتے ہیں ۔

خلاصہ کلام

بلا شبہ وجود واحد ہے اور وہ حق تَعالٰی کا وجود ہے ۔پس جو اس سے واقع ہونے والی تجلی کو جمع کی آ نکھ سے دیکھتا ہے، اسے ملکوت کہتا ہے۔ اور جو اسے عالم حکمت میں فرق کی آنکھ سے دیکھتا ہے اسے ملک کے نام سے موسوم کرتا ہے۔ اور جس پر اسرار لطیفہ غیبیہ کی تجلی نہ ہوئی وہ جبروت ہے۔ یہ ایک مجرد اصطلاح ہے جو لغت کی اصطلاح سے جدا ہے۔ چنانچہ اہل فرق اہل حجاب ہیں جو سوائے ملک کے کسی چیز کو نہیں دیکھتے کیونکہ وہ عالم محسوسات میں جم گئے ہیں لہٰذا وہ لوگ عالم ملکوت سے محجوب ہوگئے۔ اور اہل فناء عالم ملکوت کے سوا کچھ نہیں دیکھتے اور ان کے افکار جبروت کے سمندر میں تیرتے ہیں۔ اور اہل بقاء ملکوت کو دیکھتے ہیں اور جبروت میں تیرتے ہیں اور حقوق عبودیت کی ادائیگی اور ربوبیت کے آداب بجا لانے کے لئے عالم ملک میں نزول کرتے ہیں اور رب تعالیٰ کے علوم میں غوطہ زن ہوتے ہیں۔ چنانچہ انکا جمع انہیں ان کے فرق سے نہیں محجوب کرتا اور اسی طرح انکا فرق انہیں انکے جمع سے محجوب نہیں کرتا اور نہ انکی فناء انہیں انکی بقاء سے اور نہ انکی بقاء انہیں انکی فناء سے روکتی ہے۔ وہ لوگ حقدار کو اسکا حق ادا کرتے ہیں اور حصہ دار کو اسکا حصہ پورا دیتے ہیں۔ اللّٰہ تَعالٰی اپنے کرم و احسان سے ہمیں ان خاص لوگوں میں سے کردے ۔


ارشاد:۔

جی ہا ں حضرت جنید بغدادی ذکر بالجہر کیا کرتے تھے وہ بھی اتنی بلند آواز میں کہ ایک مرتبہ تو پڑوسی نے قاضی کے پاس مقدمہ درج کروا دیا تھا کہ یہ بہت تیز آواز میں ذکر کرتے ہیں۔


ارشاد:۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غارِحرا میں تشریف لے جاتے تھے اور تنہائی میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتے تھے آپ تقریبا چھ ماہ تک جاتے رہے ہیں ۔ اور سب سے پہلی وحی بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے غارِ حرا میں نازل فرمائی ۔

اور موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر بلایا فرماتا ہے:''وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوۡسٰۤی اَرْبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً '' اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ فرمایا ۔اور فرماتا ہے: وَ وٰعَدْنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیۡقاتُ رَبِّہٖۤ اَرْبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ۚ'' اور ہم نے موسٰی سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دعائے سیفی کی دعوت دی آپکو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تعلیم فرمائی ۔

اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت انس کو رشد و ہدایت کی ذمہ داری سے قبل گیارہ اسماء تعلیم فرمائے۔ ہر نبی کواسم تعلیم کیا گیا اور انہوں نے اس کی دعوت دی ہےاور اسی کے ذریعے معجزات کی تکمیل ہوتی تھی۔


ارشاد:۔ نفس کشی اور دل کی صفائی کے لئے تنہائی اور ذکرِ الٰہی بہت ہی مفید ہیں۔ آئینہ دل کے لئے صحبت اغیار ایسی ہے جیسے شیشہ کے لئے گرد و غبار اور دنیاوی الجھنیں ایسی ہیں جیسے لوہے کے لئے زمین یا پانی۔ جس سے زنگ آ جا تی ہے۔ چلوں میں اس چیز سے علیٰحدگی ہے۔ لہٰذا قلب کی صفائی حاصل ہوگی۔ رب نے موسیٰ علیہ السلام کو توریت دینے کے لئے طور پر بلایا۔ تو ان سے چا لیس دن کا چلہ کرایا۔فرماتا ہے ''وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوۡسٰۤی اَرْبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً '' حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نبوت سے قبل6 ماہ غارِ حرا میں چلے گئے ۔

پھر روحانی اور جسمانی ترقیوں کے لئے چالیس کا عدد مانا ہوا ہے آدم عَـلَـيْهِ السَّلَام کا خمیر چا لیس سال تک خشک کیا گیا، بچہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ پھر چالیس دن خون پھر چالیس دن تک نفاس آ سکتا ہے چالیس سال کی عمر میں عقل پختہ ہوتی ہے اسی لئے اکثر پیغمبروں کو نبوت اس عمر میں عطا ہوئی اس لئے چلے کے لئے چالیس دن مقرر ہوئے۔ (رسائل نعیمیہ)


ارشاد:۔ تابعین کا طریقہ کثرت ِنماز و کثرت تلاوت تھا ۔ حضرت جنید بغدادی روزانہ سو رکعت نماز نوافل پڑھا کرتے تھے اور ہر رکعت میں سو بار سورہ اخلاص پڑھتے اور ہر سلام کے بعد تين سو بار اسم اللّٰہ کی ضرب لگاتے تھے ،اور یہ چالیس سال آپکا معمول رہا۔


ارشاد:۔ اب تم اسے کرامت پر مت لے جاؤ، اور اگر یہ کرامت تھی تو کونسا پہلے دن سے انکے پاس کرامت آگئی تھی، تم کرامت تک تو آؤ یعنی اگر سو نہیں پڑھ سکتے تو دس بار ہی پڑھ لو پھر آہستہ آہستہ بڑھاتے جاؤ ایک دن تمہارے پاس بھی کرامت آ جائے گی۔ ہم تو کرامت کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں۔


ارشاد:۔

سات سال سے انیس سال تک کی ریاضت چاہئیے، لیکن حضرت با یزید بسطامی کو 29 سال میں ہوا۔ بابا فرید کو 36 سال میں ، سب سے زیادہ وقت آپکو لگا اور سب سے کم خواجہ بختیار کاکی کو آپ نے 1000 ہزار بار سورہ اخلاص پڑھی تھی اور کشود ہو گیا تھا ،اور حضرت جنید بغدادی کو وقت ِنزع ہوا آپ کبھی ہنستے تھے کبھی روتے، آپکے خلیفہ شیخ ابو الحسن نوری وہاں موجود تھے آپ نے پوچھا حضور یہ کیا معاملہ ہے؟ فرمایا روتا اس لئے ہوں کہ جو منصور پر اس وقت کھلا تھا وہ مجھ پر آج کھلا ہے، اور ہنستا اس لئے ہوں کہ شکر ہے موت سے پہلے کھل گیا۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں بارہ سال وقف کردو تمہارا سینہ کھول دیا جائے گا اور خوبی کی بات یہ ہے کہ کشود سے پہلے انشراح ہوتا ہے یعنی سینہ کھولا جاتا ہے کیونکہ اسکے بغیر کشود نہیں ہوتا، اس پر اتفاق ہے اور یہ کلیہ ہے کہ کشود سے پہلے انشراح لازمی ہے اگر اسکے بغیر کشود ہوجائے تو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا چار مرتبہ انشراح کیا گیا ۔


ارشاد:۔ انشراح سے مراد شرح صدر ہے یعنی اس کا سینا کھول دیا جاتا ہے اور اللہ کے نور سے پاکیزہ کیاجاتا ہے تاکہ تجلیات اوراسرار الٰہی کے قابل ہوجائے پھر اسکی روح کو امر حاصل ہوجاتا ہے اور جسکی روح کو امر حاصل ہوجائے اسکا جسد محفوظ ہو جاتا ہے ،مٹی اسے نہیں کھاتی ،اسی لئے اولیاء کرا م کے اجساد کو اللّٰہ تَعالٰیمحفوظ کردیتا ہے۔

حضرت سلطان باھو رَحۡمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ فرماتے ہیں :اہل ناسوت کی موت اسے مرنےکے بعد قبر کے عذاب میں مبتلا کرکے خراب کر دیتی ہے جس سے اہل ناسوت کا وجود خاک و خاکستر ہو کر نیست ونابود ہو جاتا ہے۔ لیکن اہل لاھوت لامکان کو جب موت آتی ہے تو قبر میں اس کے جسم کے ساتوں اندام صحیح سلامت رہتے ہیں کیونکہ تصور اسم اللّٰہ ذات کی وجہ سے اسکا جسم نور بن جاتا ہے قلب زندہ ہوجاتا ہے روح مقدس ہو جاتی ہے اور وہ ہمیشہ انبیاء و اولیاء اللّٰہ کی مجالس میں حاضر رہتا ہے ۔ایسی موت کو قرب المعبود کہتے ہیں۔ (نورالھدیٰ ص ۳۵۳)

باعث زوال پانچ(5) چیزیں -:

اور فرماتے ہیں : اہل ایمان کے لئے پانچ چیزیں باعثِ زوال ہیں جس نے انکو بند نہ کیا اس پر راہ ِ فقر نہ کھلے گی ۔

وہ پانچ چیزیں کونسی ہیں؟ وہ حواسِ خمسہ ہیں۔ یعنیسننے، دیکھنے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کی حسں یہ پانچوں چور ہیں جو وجود کے اندر نفس کے ساتھی ہیں ان پانچوں سے توبہ کرانی چا ہیے۔

یعنی کان توبہ کریں، آنکھیں توبہ کریں، زبان توبہ کرے، ہاتھ توبہ کریں اور پاؤں توبہ کریں۔ جن باتوں کا سننا درست نہیں انہیں مت سنے جن چیزوں کا دیکھنا درست نہیں انہیں مت دیکھے جن باتوں کا کہنا درست نہیں انہیں مت کہے، جن چیزوں کا پکڑنا درست نہیں انہیں مت پکڑے اور جہاں جانا درست نہیں وہاں مت جائے۔ (عین الفقر ص۳۲۷)


ارشاد:۔ حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں میں کسی آیت یا اسم کی تکرار اتنی کرتا ہوں کہ جب تک بھیجنے والے سے سن نہ لوں چھوڑتا نہیں ہوں ۔


ارشاد:۔ کشود اور فتح ،یعنی اسرار کا ظہور۔


ارشاد:۔ جی ہاں تکرار ضروری ہے، کیونکہ تکرار سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور حرارت سے نور جس سے ذاکر کا جسم نورانی بن جاتا ہے، اور اس قابل بنتا ہے کہ اس ذات کی تجلیات کے نور کو برداشت کرلیتا ہے۔


ارشاد:۔

انہوں نے اسم "حی" کی دعوت دی تھی جس کی برکت سے انہیں اتنی لمبی عمر دی گئی۔ حضورغوث ِاعظم نے اپنے بیٹے حضرت شاہ جمال کو اسم "حی" تعلیم کیا تھا اور فرمایا دعوت دو۔ جب وہ دعوت دیکر فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا کہ مجھے اس اسم کی دعوت کا حکم کیوں دیا گیا ؟ حضور غوث پاک نے فرمایا تمہیں ایک امانت دینی تھی اس وجہ سےاس اسم کی دعوت دلائی ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد آپ نے وجد کے عالم میں شاہ جمال کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا وہ امانت یہ ہے کہ امام مہدی کو میرا سلام کہنا۔ آپ کے بیٹے شاہ جمال نے عرض کی کیا میں تب تک زندہ رہونگا ؟ فرمایا ہاں۔ تمام سلاسل اس بات پر متفق ہیں کہ آپ زندہ ہیں۔


ارشاد:۔ حدیث شریف میں ہے" مَنۡ عَرَفَ نَفۡسَہٗ فَقَدۡ عَرَفَ رَبَّہٗ" اب پہچان چند لحاظ سے ہے:۔

انسان کی پہچان طبیعت کے لحاظ سے

جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ طارق میں فرماتا ہے-:

﴾فَلْیَنۡظُرِ الْاِنۡسانُ مِمَّ خُلِقَ ؕ﴿۵﴾ خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ ۙ﴿۶﴾یَّخْرُجُ مِنۡۢ بَیۡنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِ ؕ﴿۷

ترجمہ -: تو چاہئے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے بنایا گیا۔ جست کرتے پانی سے۔جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینوں کے بیچ سے۔

اورسورہ حجر میں فرماتا ہے:-

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الۡاِنۡسانَ مِنۡ صَلْصٰلٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوۡنٍ﴿۲۶﴾

ترجمہ -: اور بیشک ہم نے آدمی کوبَجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی۔

اور سورہ رحمٰن میں فرماتا ہے:-

خَلَقَ الْاِنۡسانَ مِنۡ صَلْصٰلٍ کَالْفَخَّارِ ﴿۱۴﴾

ترجمہ -: اس نے آدمی کو بنایا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری۔

اور سورہ مؤمنون میں فرماتا ہے:-

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿۱۲﴾

ترجمہ -: اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا،

ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیۡ قَرَارٍمَّکِیۡنٍ ﴿۱۳﴾

ترجمہ : ۔ پھر اسےپانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں۔

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیۡنَ ﴿۱۴﴾

ترجمہ : ۔ پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا ہے۔

انسان کی پہچان عظمت کی لحاظ سے

جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :

وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾وَ طُوۡرِ سِیۡنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾وَ ہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیۡنِ ۙ﴿۳﴾ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسانَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ ﴿۴﴾

انجیر کی قسم اور زیتون، اور طور سینا، اور اس امان والے شہر کی، بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔

اور فرماتا ہے سورہ بقرہ میں

وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً ؕ

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔

اور فرماتا ہے

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۳۱﴾

اور اللہ تعالی نے آدم کو تمام (اشیاء) کے نام سکھائے پھر سب (اشیاء) کو ملائکہ پر پیش کر کے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔

اور فرماتا ہے

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبْلِیۡسَ ؕ اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ٭۫ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۳۴﴾

اور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔

اور فرماتا ہے سورہ بنی اسرائیل میں

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾

اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا۔

تو انسان اشرف المخلوقات ہے، یہ کعبہ سے بھی افضل ہے، جیسا کہ حدیث پاک میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کعبہ کی طرف اشارہ کرکے ارشاد فرمایا : کہ ایک مؤمن کی عزت تجھ سے بڑھ کر ہے۔ تو ان آیات ا و راس طرح کی احادیث میں انسان کو اسکی قیمت بتائی جا رہی ہے کہ کائنا ت کی کوئی چیز بھی تمہاری قیمت نہیں، تو اس کائنات کی چیزوں پر کیوں بکتا ہے۔ اپنا بھاؤ اتنا کیوں گراتا ہے؟ تم اتنے سستے تو نہیں ہو کہ ان چیزوں پر بک جاؤ جن کی قیمت اللہ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں اور جس کی وقعت اللہ کے ہاں مری ہوئی بھیڑ جیسی بھی نہیں۔ کیوں اس فانی کو اس باقی پر ترجیح دیتے ہو؟

ارے ! تمہاری قیمت تو تمہارا رب ہے اور کچھ نہیں، فرماتا ہے

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾

اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی اسی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں۔

اپنی قیمت کو سمجھو اوراپنے رب پر بِک جاؤ ۔کسی شاعر کا شعر ہے :

جب تک بکے نہ تھے کوئی پوچھتا نہ تھا

تم نے خرید کر ہمیں انمول کردیا

تو جو اللہ رب العزت پر اپنی قیمت لگا دے اللہ اسے اپنا خلیفہ بنا لیتا ہے۔ علامہ اقبال نے کہاہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔

تو جسے وہ خلیفہ بنا لیتا ہے اس سے پوچھتابھی ہے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔ اگر انسان اس بات کو سمجھ لے تو پھر یہ خلیفۃالارض ہے، پھر اسے اختیار ہے کہ ڈوبی ہوئی کشتی کو باہر نکال دے جیسا کہ غوث پاک نے کیا ۔

جب انسان اپنی حقیقت کو پہچان لیتا ہے تو اسکی کوئی حقیقت نہیں رہتی جسے یہ حقیقت سمجھتا تھا، کیونکہ اسکی حقیقت بھی وہی ہے کہ یہ کچھ نہیں ہے ۔

نہ فنا میری نہ بقا میری مجھے اے شکیل نہ ڈھونڈئیے

میں کسی کا حسن خیال ہوں میرا کچھ وجود و عدم نہیں

فرماتا ہے:

وَالْعَصْرِ ۙ﴿۱﴾ اِنَّ الْاِنۡسانَ لَفِیۡ خُسْرٍ ۙ﴿۲﴾

انسان اسی لئے خسارہ میں ہے کہ یہ اس قیمت پر بک رہا ہے جو اسکی نہیں۔ اور یہ دنیا اسے خرید رہی ہے یعنی دنیا کے عوض خود کو بیچتا ہے۔ حالانکہ یہ افضل ہے اور زیادہ قیمتی، مہنگی چیز سستے داموں خریدنے والا فائدے میں رہتا ہے اور بیچنے والا ہمیشہ گھاٹے میں، اسی لئے آج دنیا فائدے میں ہے کہ بارونق ہے اور انسان گھاٹے میں ہے کہ بے رونق اور پریشان ہے۔


ارشاد:۔ دیکھو اگر ہم اپنی باتیں کرنے لگیں تو ہمیں تو گیارہ بار بھی مشکل پڑتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نفس غفلت میں زیادہ ہے، اگر تم کسی کسے پیار کرتے ہو، عشق کرتے ہو، اس کا نام بار بار سامنے آتا ہے تو تمہیں کوفت ہوتی ہے؟ مگر ہونے لگتی ہے اس کا مطلب ہے کہ عشق نہیں ہوا ابھی۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم ذکر کرکے ذاکروں میں شمار ہوجائیں، وہی کام ہے کہ جہاد میں انگلی کٹواکر شہیدوں میں نام لکھوادوں کہ بھائی میدان میں ہماری بھی انگلی کٹی تھی، قانون الگ چیز ہے اور محبت الگ چیز ہے۔


ارشاد:۔ قانون الگ چیز ہے محبت الگ چیز ہے، محبت کسی قانون کو نہیں مانتی۔


ارشاد:۔ عشق محبت سے بھی اوپر کی چیز ہے۔ عاشق کا مقام سب سے اونچا ہے بلکہ سارے مقام نیچے رہ جاتے ہیں عاشق مقام سے بھی آگے ہوتا ہے۔

علامہ اقبال کہتے ہیں :

تو ابھی رہ گذر میں ہے قیدِ مقام سے گذر

مصر و حجاز سے گذر پارس و شام سے گذر

عاشق کا عمل بے غرض ہوتا ہے اس کے بارے میں کہتے ہیں :

جس کا عمل ہو بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے

حور و خیام سے گذر بادہ و جام سے گذر

عاشق حضوری میں رہتا ہے اس کے بارے میں کہتے ہیں :

تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور

ایسی نماز سے گذر ایسے امام سے گذر

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

غوث قطب ہن اُرے اُریرے ۔۔۔ عاشق جان اگیرے ھو

جیہڑی منزل عاشق پہنچن ۔۔۔۔ اُتھ غوث نہ پاون پھیرے ھو

عاشق وچ وصال دے رہندے --- لا مکانی ڈیرے ھو

میں قربان تنہا تو باھو --- جنھا ں ذات و ذات بسیرے ھو

یعنی غوث قطب سب نیچے نیچے رہتے ہیں عاشق ان سے بھی آگے جاتے ہیں ، جہاں غوث قطب نے چکر بھی نہیں لگایا عاشق وہاں ڈیرے لگائے بیٹھے ہیں ۔


ارشاد:۔ دیکھو اگر انسان ورزش کرتا ہے تو کچھ نہ کچھ جسم تو پہلوانوں جیسا ہو ہی جاتا ہے، یہی حال ذاکر کا ہے۔ اگر وہ ذکر کرتا رہے تو کچھ نہ کچھ کیفیت تو پیدا ہو ہی جاتی ہے ذاکروں والی۔


ارشاد:۔ عشق مجازی ارادے سے ہے اور عشق حقیقی ارادہ سے پاک ہے ،یہ اس سے بالاتر ہے۔


ارشاد:۔ ارادہ یعنی غرض اور حاصل، مطلب یہ ہے کہ عشق حقیقی غرض اور حاصل کرنے سے پاک ہے۔ پھر اس ( عشق مجازی) میں وصال وہجر ہے اور یہ (عشقِ حقیقی) اس (وصال و ہجر) سے پاک ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام ایک دن بہت گریہ و زاری کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبریل علیہ السلام کو بھیجا آپ نے آکر کہا اے داؤد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے داؤد کیوں روتا ہے؟ کیا پریشانی ہے؟ کہا جہنم کے خوف سے رو رہا ہوں۔ کہا اچھا! بارگاہِ الٰہی سے نوید آئی کہ کہہ دو جہنم ہم نے اپنے دوستوں کے لیے نہیں بنائی۔ یہ نوید سنا کر چلے گئے، ایک دن پھر وہ رو رہے تھے پھر حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر پوچھا اے داؤد آج کیا ہوا ہے؟ کہا جنت کے لیے رو رہا ہوں، فرمایا یہ تو ہم نے بنائی ہی اپنے دوستوں کے لیے ہے۔ ان کے آرام کے لیے۔ ایک مرتبہ پھر رو رہے تھے، پھر حضرت جبریل آئے اور کہنے لگے اے داؤد اب کیا ہوا؟ کہنے لگے اب اس (اللہ تعالیٰ) کے عشق میں رو رہا ہوں تو نوید آئی کہ اب تمہیں چپ نہیں کرایا جائے گا، اب تم روتے رہو جتنا چاہو روؤ۔ تو یہ جو عشق کا معاملہ ہے اس میں کوئی قید نہیں اور نہ کوئی پوچھ گچھ اور نہ کوئی پرسان حال، نہ کوئی تسلی دینے والا ہے۔ (یہ عشق بذاتِ خود تسلی ہے) یہ عطا ہے، خوبی کی بات یہ ہے کہ یہ تمہارے ارادے سے نہیں ہے، اسکا مطلب ہے وہ تمہیں تفویض کی گئی ہے۔


ارشاد:۔ یہی تو تھا (عشق حقیقی

حضرت سلطان باھو فرماتے ہیں :

ایمان سلامت ہر کوئی منگے، عشق سلامت کوئی ھو

ایمان منگن ،شرماون عشقوں ،دل نوں غیرت ہوئی ھو

عشق پچاوے جس منزل، ایمانے خبر نہ کوئی ھو

عشق سلامت رکھیں باھو ،ایمانوں دیاں دھروئی ھو


ارشاد:۔ تفویض کرنے کے ساتھ ساتھ جو کلام ذکر کیا گیا:

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا الْاِنۡسانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ ۷۲ ۔ ( پارہ ،22،سورہ احزاب ،آیت نمبر 72)

ترجمہ : - بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے:

فرمایا کہ یہ ظالم بھی ہے اور جاھل بھی۔ جب اس کا ظلم مخلوق پر ہوتا ہے اور خالق سے یہ جاہل ہوجاتا ہے تو وہ (عشقِ حقیقی اور معرفت) پوشیدہ ہوجاتی ہے اور جب یہ اپنے نفس پر ظالم اور ماسوی اللہ سے جاہل ہوجاتا ہے تو وہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ تو اس کو (بندے کو) کمال اسی میں ہے کہ وہ نفس پر ظالم اور غیر سے جاہل ہو ۔


ارشاد:۔ پہلے بھی تھا (یعنی آدم سے لیکر) اور اب بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو محبت سے تخلیق کیا ہے تو جس کا خمیر ہی محبت سے ہوا ہو تو وہ خود سراپا محبت ہوجاتا ہے تو محبت تو اس کو ودیعت کی گئی تھی لیکن جب وہ ودیعت کی گئی تھی تو وہ عالمِ اعلیٰ تھا اور جہاں پر اس کو اتارا گیا وہ اسفل ہے اور ہر عالم کاایک اثر ہوتا ہے۔ دیکھو ایک محفل ہے رقص وسرور کی اور ایک محفل ہے ذکرواذکار کی، تو انسان جس محفل میں جاتا ہے اس کی وضع قطع اختیار کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ کرتا ہے۔ تو چونکہ عالمِ اسفل میں آیا تو تمام خصائلِ رذیلہ عود کر گئیں(یعنی بری عادات اس میں داخل ہو گئیں)

اب جب آدمی اِس عالم میں رہ کر اس عالم کے خصائل پیدا کرتا ہے تو وہ ہے جد و جہد، اس کو کہتے ہیں جہاد یہاں رقص کی محفل میں بیٹھ کر ذکر کی محفل لگا رہا ہے۔ خصائل، رذیلہ فوراً دور نہیں ہوتے۔ کیونکہ خصائل خراب کرنے کے لیے اس نے 25،20 سال لگائے ہیں اور ماحول نے بھی اس کا ساتھ دیا ہے تو فوراً تو دور نہیں ہوں گے اس سے بلکہ انہیں دور کرنے کے لیے ذکر میں لگنا پڑتا ہے۔

ذکر خصائلِ رذیلہ کو دور کرتا ہے:

اللہ تعالیٰ نماز کی خوبی بیان فرماتا ہے :

ا ِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِؕ

کہ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے

ظاہری طور پر ذکر کی پہلی خوبی یہ ہے کہ وہ تمہیں بے حیائی اور برائی سے روک لیتا ہے، تواس کا مطلب یہ ہوا کہ تم بغیر ذکر کے کسی کو برائی اور بے حیائی سے نہیں روک سکتے تو لہٰذا برے ہی آدمی کو ذکر دیا جائے اگر ہم ڈھونڈنے ہی لگ جائیں کہ اچھے آدمی کو ہی ذکر دو، بس تو اسے ذکر کا فائدہ کیا؟ روٹی کی ضروت تو بھوکے کو ہوتی ہے اس کو تو چٹنی بھی مل جائے تو احسان مند ہوگا۔ تو بات یہی ہے کہ کثرت سے ذکر کرنا بھی بہت ساری چیزوں سے روکتا ہے، اس لیے تمہارا کا م تو بس تو بہ کرواکے ذکر دینا ہے۔


ارشاد:۔ اگر تم کیچڑ میں پھسل جاؤ تو سردی کے ٹھنڈے پانی کے خوف سے تم کیچڑ نہیں دھوؤگے؟ ضرور دھوئے گے، چاہے دھونے کے بعد نمونیہ ہوجائے، بالکل یہی مثال ہے، اگرآدمی یہی سوچ لے کہ میں دنیا کی گندگی میں ہوں اور دھونا ضروری ہے تو جھگڑا ختم ہوگیا، پھر کس کام کا خوف رہ جاتا ہے؟ پھر تو بس ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ سب سے پہلے صاف ہو جاؤں ۔


ارشاد:۔ نہیں! ہر بات ہر ایک کے لیے نہیں، ضروری نہیں کہ یہ کیفیت ہر ایک پر وارد ہو۔


ارشاد:۔ اس پریشانی کو آدمی اس لیے برداشت کرتا ہے کہ اس کے فوائد سامنے ہوتے ہیں اور اس کے (راہِ خدا میں آنے والی پریشانیوں کے) فوائد پوشیدہ ہوتے ہیں، بس یہی بات ہے۔ یومنون بالغیب، پوشیدہ کو ماننے کی ضرورت ہے۔


ارشاد:۔ دنیا کے معاملات دنیا والوں کی طرح ہی فَیس کرنے چاہییں، اس کے لیے کرامات چاہنا سخت خطرناک بات ہے۔

حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے دنیاوی معاملات کا یہ عالم تھا کہ پرچون والوں کا ادھار آپ کی طرف، کپڑے والوں کا ادھار آپ کی طرف، اور زیادہ تر کاروبار یہودیوں کے ہوتے تھے تو آپ ان سے چھپتے پھرتے تھے، حالانکہ آپ کو کیا کمال حاصل تھا۔ لوگوں نے پوچھا حضرت آپ بڑے باکمال ہیں، بڑے بڑے بزرگ آپ کے سامنے دو زانو ہوتے ہیں لیکن آپ کے دنیا کے معاملات؟ آپ نے فرمایا دنیا جیسی لکھی گئی ہے ویسی گذار رہا ہوں۔ سبحان اللہ

اب اگر ہمیں اچھے حالات ہیں تو شکر پر شکر کرنا چاہیےاور اگر خدانخواستہ کمی ہے تو صبر کرنا چاہیے،شکوہ برباد کردیتا ہے۔


ارشاد:۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ ذکر کیا تو یہ پریشانی آگئی، تو سب سے زیادہ پریشانی تو مولویوں کو آنی چاہیے۔ ذکر کو کیوں بدنام کرتے ہو؟ وہ پریشانی تو تمہاری قسمت میں لکھی گئی تھی، ذکر نہ کرنے کے باوجود بھی لوگ پریشان رہتے ہیں تو سب بات تقدیر کی ہے۔

ذکر تو اطمینان کے لیے ہے، قرآنِ کریم میں ارشاد ربانی ہے:

اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ ﴿ؕ ۲۸

خوبی کی بات یہ ہے کہ ذکر اطمینان دیتا ہے، جب تمہیں کوئی سہارا نہ ہو تو ذکر اطمینان دہ چیز ہے، بلاؤں پر ذکر کرنا تو اطمینان کی نشانی ہے اور مصیبت کا زور ٹوٹ جاتا ہے، اس کے ٹلنے کے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں کیونکہ جب تمہاری نظر مسبب الاسباب پر ہوتی ہے تو اسباب کیا چیز ہیں۔


ارشاد:۔ تجلی قہری تمہارے اختیار میں نہیں ہے تمہارے اختیار میں بس یہ ہے کہ جب تجلی قہری ہو تو صبر کرو اور اس کے آگے نفس کو کردو کیونکہ قہر کا وقت ٹلنے والا نہیں۔ یہ بات یاد رکھو تمہاری کو ئی دعا، کوئی تعویذ، کوئی کلام، کوئی صبر اسے ٹال نہیں سکتا، وہ ہر حال میں ہوکر رہے گا، وہ وقت تم نے گذارنا ہےلیکن جب تم صبر کرتے ہو تو تمہارے نفس کو اطمینان ہوجاتا ہے اور جب اطمینان ہوجاتا ہے تو وہ وقت آسانی سے گذر جاتا ہے، لیکن گذرنا ضرورہے۔

نوٹ : تجلی قہری سے مراد بندے پر من جانب اللہ قہری علامات کا ظاہر ہونا ہے ۔

حکایت : ۔

حضرت علاؤالدین عطار :۔ ایک بزرگ گذرے ہیں نیشاپور میں رہتے تھے، جب ہلاکو خان نے چڑھائی کی اور ان کو پتا چلا کہ ہلاکوخان آرہا ہے تو جس مٹی کے پیالے میں یہ کھاتے پیتے تھے انہوں نے وہ پیالہ اٹھاکر اوندھا کردیا تو ہلاکو خان کو راستہ نہیں ملا وہ واپس چلا گیا اور باہر پڑاؤ ڈال دیا، اس نے کہا کل جب سورج نکلے گا جب دیکھیں گے، رات کو آپ علیہ الرحمۃ کو پتا چلا کہ فوج ٹل گئی ہے آپ نے پیالہ سیدھا کیا، صبح کو پھر پتا چلا کہ ہلاکوخان چڑھائی کے لیے آرہا ہے آپ نے پھر اپنا پیالہ اوندھا کردیا تو ہلاکو خان کو پھر راستہ نہیں ملا۔ تیسرے دن جب آپ پیالہ اوندھا کرنے لگے تو حضرت خضر آگئے اور آپ کا ہاتھ پکڑلیا اور کہنے لگے اے علاؤالدین قضا سے نہیں بھاگ سکتے، پورے نیشاپور کا تاراج ہونا لکھ دیا گیا ہے اور یہ تاراج ہی ہوگا اب اس پاداش(سزا) میں کہ تم نے دو دن نیشاپور کو بچایا تھا اس میں تمہاری بھی گردن دی گئی ہے، حضرت علاؤالدین نے کہا کہ اب میں کیا کروں؟ انہوں نے کہا کہ اب ایک ہی راستہ ہے کہ تلوار اٹھالو اور کفار کے ساتھ اعلان جہاد کرکے جہاد کرنا شروع کردو تاکہ شہادت تو ہوجائے وہی کیا آپ نے اور شہید ہوگئے۔

کمال یہ ہے کہ : ۔

اختیار ہو اور کچھ نہ کرے۔ تمہارے پاس اختیار نہیں اس لیے تم دعا ہی کروگے لیکن اختیار ہو تو تم دعا نہیں کرتے بلکہ اختیار استعمال کرتے ہو مثلاً ایک آدمی کو تھپڑ ماردیں وہ غریب آدمی ہے وہ تو کوستا ہی رہے گا کہ اللہ تجھے یہ کرے وہ کرے اور وہ بھی اس کے منہ پے نہیں کرے گا ورنہ یہ دو اور ماردے گا اس لیے جب وہ چلا جائے گا تو پھر کوسے گا کیونکہ اس کے پاس اختیار نہیں ہے، لیکن جس کے پاس بندوق ہے وہ تھپڑ مارنے والے کو گولی مارے گا وہ بد دعا نہیں کرے گا۔

اور اگر اختیار ہو اور پھر نہ کریں ہم تو پھر یہ کمال کی بات ہے،کیونکہ یہ راضی برضا رہتا ہے ،رضا کا پتہ یہاں چلتا ہے۔ یاد رکھو تم کتنا ہی اختیا ر رکھو لیکن ہوتا وہی ہے جو لکھ دیا گیاہے،اس لیے کہ وہ بڑا صاحب اقتدار ہے وہ اپنے فیصلوں میں کسی کو پسند نہیں کرتا۔


ارشاد:۔ تبدیل نہیں کردیا آپ نے فرمایا کہ میں نے ستر مرتبہ بارگاہِ ایزدی میں تبدیلی کی عرض کی ،69مرتبہ رد کردی گئی 70 ویں مرتبہ میں یہ بات ہوئی کہ ہونا تو ہے چلو خواب میں ہوجائے گا (اور یہ بھی تقدیر ہی میں تھا)۔


ارشاد:۔ وہ بھی لکھا ہوا ہوتا ہے تو ٹلتا ہے ورنہ ٹلتی نہیں کسی سے(یہی تو بات ہے جو ہم سمجھتے نہیں ،اس ایک مرید کے خواب میں تو مصیبت ٹل گئی ،لیکن دوسری مریدنی تھی جسے جن اٹھاکر لے گیا تھا وہ خواب میں نہ ٹلی)ایسی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے بزرگوں کو اختیار بھی دیا ہے اور کرامت بھی دی ہے لیکن وہ بھی تقدیر میں ہے۔

آئی حیات آئےقضا لے چلی چلے

اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی سے چلے۔

یہاں کسی کی نہیں چلتی ،جس کی چلی اتنی چلی جتنی مقدور تھی۔


ارشاد:۔

یَاھُوَ یَاھُوَ یَاھُو یَا مَنْ لَیْسَ لَہ ٗ اِلّاھُوْ ۔

یہ مذکورہ ذکر ذکرغوثیت ہے۔ یہ ٖغوث کو تفویض کیا جاتا ہے، جو 12سال یہ ذکر کرلے مقامِ غوثیت پاجاتا ہے۔ اس ذکر کو"اَللّٰہُ الصَّمَدْ "کے ساتھ بھی کیا جاتا ہےاور اسمِ" بُدُوْح " کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے۔

خاندانِ چشت میں یہ ذکر اسمِ" بُدُوْح " کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے۔

خاندانِ مداریہ میں یہ ذکر " اَللّٰہُ الصَّمَدْ " کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

مداریوں کا یہ ذکر " اَللّٰہُ الصَّمَدْ "خاص ہے، اور ایک یہ " یاَ بَدِیْعَ الْعَجَائبِ"بھی بڑا سخت ذکر ہے، یہ 12 ہزار دن تک کرایا جاتا ہے اور ہر دن کا ذکر 12 ہزار ہوتا ہے۔ شیخ کی مرضی ہے کہ تین مراحل میں سے جس میں پڑھوائے۔

تین مراحل یہ ہیں

۔1۔ بِاالْقَہر

۔2۔ بِاالْمَہر

۔3۔ بِاالْشِّفاء

اور یہ تین مراحل سے گزرتا ہے

۔1۔ قَلندَرِقہری

۔2۔ قَلندَرِمھری

۔3۔ قَلندَرِدَھری

ان تین مراحل سے گذر کر سالک قَلندَرِ زَمَان ہو جائے گا، بو علی شاہ قلندرکا وصال اسی ذکر میں ہوا، 46 اسمائے قہریہ اور 43 اَسْمَائے مہریہ کے ساتھ یہ ذ کر ہوتا ہے، اسےذِکْرِقَلَنْدَرِیْ کہتے ہیں،اس میں ذکرِ اسدی عصر سے مغرب کے درمیان کرنا ہوتا ہے یا پھر تہجد سے فجر کے درمیان، شیر کی ہیئت میں بیٹھ کر 46 اسمائے قہریہ کے ساتھ ھو کی صدا نکالی جاتی ہے، اس ذاکر کی تربیت کچھ عرصے میں مولائے کائنات حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کرنے لگتے ہیں، جتنے بھی قلندری ذکر کرنے والے ہوتے ہیں ان کی تربیت مولائے کائنات حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے پاس چلی جاتی ہے، پہلے 12 سال تربیت حضرت کمیل بن زیاد، دوسرے 12 سال حضرت بلال حبشی پھر مولائے کائنات کے حوالے کیا جاتا ہے اور 12 سال آپ تربیت فرماتے ہیں، اسطرح 36 سال مکمل ہوتے ہیں، اسیطرح اگر زندگی ساتھ دے تو بعض بزرگوں کو اضافی حیات بھی عطا کی گئی ہے تا کہ کام پورا ہوجائے، یہ اختیار حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو اللّٰہ تَعالٰی نے عطا فرمایا ہے، یہ صرف ذکرِ قلندری میں ہے۔

ہر صحابی کی ذمہ داری:

کوئی نہ کوئی ڈیوٹی ہے، کوئی بھی بارگاہِ رسالت میں بغیر صحابی کے نہیں جاسکتا، ابو عبیدہ بن جرّاح تو دربان ہیں، اسیطرح طلحہ بن زبیر، عبداللہ بن مسعود، عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنۡہُم۔


ارشاد:۔ وہ تو سرخیل ہیں، سلاسل کے بڑے ہیں، اب جیسے سلسلہ نقشندیہ اورشطاریہ ہے جب اس میں سالک ترقی کرتا ہوا آگے بڑھے گا تو اسے حضرت ابوبکر صدیق کے دربار میں پیش کیا جائے گا پھر وہ بادگاہِ رسالت میں آئے گا، اسیطرح تمام سلاسل اپنے سرخیلوں تک جاتے ہیں پھر وہ لو گ آگے پہنچاتے ہیں، اپنی مرضی سے آگے کوئی نہیں جاسکتا ۔

اسمِ " بُدُوْح " کی اہمیت:۔

خاندانِ چشت میں اس کو اسمِ اعظم کی حیثیت حاصل ہے۔ امام احمد غزالی نے امام محمد غزالی کو اسمِ" بُدُوْح "تعلیم کیا تھا۔

داتا علی ہجویری کو اسم بدوح اور دعائے برہتی شریف تعلیم کی گئی تھی، پڑھنے کے بعد آپ کو یہ کمال حاصل ہوا کہ آپ جیسی تصنیفات کسی نے نہیں کی۔

امام احمد غزالی سے سوال کیا گیا کہ آپ میں اور امام محمد غزا لی میں کیا فرق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ صرف ایک فرق ہے مجھے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے لیے اور محمد غزالی کو مخلوق کے لیے خاص کر دیا ہے۔

غوث بہاؤالدین ذکریا رَحۡمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کی توجہ منتقلہ نہیں تھی، آپ نے توبہ کے لیے شیخ صدرالدین عارف کو شیخ جلال الدین تبریزی کے پاس بھیجا تھا، اور خوبی کی بات یہ ہے کہ آپ کے سجادہ شاہ رکن عالم کی توجہ جیسی توجہ پورے خاندان سہرورد میں کسی کی نہیں۔

میاں حضور کی پہلی دعوت:۔

میاں حضور دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا کہ میں نے ایک دعوت دی وہ میری پہلی دعوت تھی تو میاں صاحب نے فرمایا تمہیں دعوت میں بٹھا تو رہے ہیں لیکن ایک شرط ہوگی۔ میں نے کہا کیا؟ کہنے لگے اس کے بعد آدمی کو ایک اختیار ہو جاتا ہے لیکن تم وعدہ کرو کہ یہ اختیار تم اپنی ذات کے لیے استعمال نہیں کرو گے اور جس دن کرو گے اس دن یہ اختیار ہماری طرف واپس آجائے گا، میں نے کہا میاں حضور کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ انسان کو لوگوں سے زیادہ اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے۔ تو یہ تمہارے مفاد کے لیے تمہیں نہیں کرایا جارہا۔

خیر کوئی بات نہیں وہ کی اللہ تعالیٰ نے اس میں کامیابی دی۔ تقریباً ڈیڑھ سال کا ٹائم گذارا ہوگا، مجھ پے کسی نے جادو کردیا، جادو بھی بڑا شدید تھا وہ، مجھ سے پوچھا گیا کیا کروں؟ میرے منہ سے نکل گیا پلٹ دو! اگر کہتا اثر ختم کردو تو الگ بات ہوتی شاید، لیکن میں نے کہا کرنے والے پے پلٹ دو، وہ جادوگر اسی وقت رات کو مرگیا۔ میں تو یہ بول کر سوگیا کہ مجھے نہیں معلوم وہ مرگیا یا زندہ ہے؟

میں جب رات کو سو گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میاں صاحب تشریف فرما ہیں اور میں دروازے پر کھڑا ہوں، ہمارے پیر بھائی وغیرہ بیٹھے ہوئے ہیں، میاں حضور نے فرمایا کہ تم اپنے وعدے سے پھر گئے، میں نے کہا کہ میاں میں نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا تو وہ فرمارہے تھے بس یاد کرو۔

مجھے ایک دم جھٹکا لگا اور آنکھ کھل گئی ،میں اٹھ کر بیٹھ گیا، دیکھا تو کوئی بھی نہیں ہے، میں نے کہا کہ سارے کہاں گئے؟ پھر میں نے بلایا اور پوچھا تو کہنے لگے کہ میاں حضور نے فرمایا ہے کہ وعدہ شکنی ہوئی ہے، تو میں نے کہا میں کیا کرتا؟ تو کہنے لگے صبر کرتے ۔ہوتا تمہیں کچھ بھی نہیں لیکن تم جلد بازی کرگئے، میں نے کہا واقعی تم صحیح کہہ رہو ہو،غلطی ہوگئی، وہ دن اور آج کا دن ،آج تک اپنا دم کیا ہوا پانی نہیں پیا، یہ مقصد ہی اپنے ذہن سے نکال دیا یہاں تک کہ کوئی کام کرنا ہوا تو استخارہ بھی نہیں کیا، نقصان اٹھایا ہزاروں ،لاکھوں کا، لیکن استخارہ بھی کبھی نہیں کیا۔

اگر میں اختیار استعمال نہ کرتا تب بھی جان اسی کی جاتی، اس کی قضا تو لکھی تھی ،وہ میرے گلے پڑ گیا۔

دوسرے دن اتفاق کی بات میں گھر سے باہر نکلا تو اخبار کا ٹکڑا پڑا ہوا تھا، اسلامی اخبار تھا میں نے اٹھایا تو اس میں ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہوا تھا۔

بزرگ کا واقعہ : کہ اللّٰہ تَعالٰی کی طرف سے ایسے ہی تھا۔

وہ بزرگ ہر بات پر کہتے تھے کہ اللہ کی طرف سے ایسے ہی تھا تو ایک آدمی نے ان کو پیچھے سے پتھر ماردیا، ان کا سر پھاڑ دیا تو بزرگ نے پلٹ کر دیکھا ان کو تو وہ کہنے لگے تو وہ کہنے لگے حضرت کیا دیکھ رہے ہو یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے آیا ہے، آپ نے فرمایا کہ بے شک آیا تو اللہ ہی کی طرف سے ہے ،لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ منہ کس کا کالا ہوا؟ (اللہ اکبر)

اس کے بعد کبھی بھی ایسا نہ ہوا، کو ئی کچھ بھی کرتا رہے، انتقام نہیں لیا، اگر کسی کے ہاتھ سے آنی ہے تو کون بچائے گا؟ اور اگر نہیں آنی تو کون مارے گا؟


ارشاد:۔ جو دنیاوی معاملات کے لیے اس میں لگتا ہے اس کی آخرت چلی جاتی ہے۔


ارشاد:۔ علاج کرنا حق ہے، اس کی تدبیریں ہیں آپ دعا سے بھی کرسکتے ہیں، دوا سے بھی کرسکتے ہیں، کیونکہ علاج کرنا ، خیر خواہی کرنا یہ سرکارِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم مجنوں پر دم فرمایا کرتے تھے، پانی دم کیا کرتے تھے، لیکن یہ سب تقدیر الٰہی ہے۔


ارشاد:۔ نہیں نہیں منع نہیں ہے، بلکل کرسکتے ہو، (جسے منع کیا گیا ہو اسے منع ہے، ہر ایک کو نہیں) ۔


ارشاد:۔ جلالی تو بہت تھے، مجھے لگتا ہے کہ موسوی تھی وہ اصولوں میں بہت سخت تھے، ہمیں منع کر دیا کسی سے سوال نہیں کرنا ،دو دو ،تین تین دن بھوکے رہتے تھے لیکن مانگتے نہیں تھے۔


ارشاد:۔ کمائے تو وہ جسے کمانے کا ٹائم بھی ملتا ہو، جب دوسرے معاملات (ذکر و اذکار وغیرہ) سے فارغ ہوتا ہو۔


ارشاد:۔ خواجہ عثمان رَحۡمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کا ابوالعلائی اور خواجہ منظور حسین رَحۡمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کا مداریہ شطاریہ تھا۔ سخت گیر لوگ تھے۔ مداریہ شطاریہ کے ہاں اس وقت تک خلافت نہیں دیتے تھے جب تک 12 سال کی ریاضت پوری نہ کرلے، ان کے ہاں ایک ذکر ہے جب تک وہ ذکر پورا نہ ہو جائے تب تک وہ کہتے ہیں کہ یہ کسی کام کا ہی نہیں۔ اس ذکر کے مختلف طریقے ہیں 120دن کا بھی ہے360 دن کا بھی ہے 231 دن کا بھی ہے۔


ارشاد:۔ 231 دن کا اور یہ اَللّٰہُ الصَّمَدْ کے ساتھ ہے، اور اس میں پابندی بہت سخت ہے اور 360 دن والا اَللّٰہُ الصَّمَدْ کے ساتھ نہیں ہے اس کا دوسرا طریقہ ہے۔